خطبات محمود (جلد 39) — Page 328
$1959 328 خطبات محمود جلد نمبر 39 حضرت شعیب علیہ السلام نے حضرت موسی علیہ السلام کو اپنی لڑکی دینے کا وعدہ کیا تو کہا تم دس سال کی میری خدمت کرو۔جب تم یہ مدت پوری کر لو گے تو میں اپنی لڑکی کا تم سے نکاح کر دوں گا۔گوی حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی طرف سے کم کر کے کہا کہ اگر میں آٹھ سال بھی پورے کر دوں تو مجھے پر اعتراض نہیں ہو گا لیکن بہر حال انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے شرط کی تھی اور حضرت موسی علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ میں اس شرط کو قبول نہیں کرتا بلکہ کہا کہ اگر میں دس سال کی مدت پوری نہ کرسکوں آٹھ سال بھی پورے کر دوں تو مجھ پر کوئی الزام نہیں ہوگا۔4 گویا حضرت موسی علیہ السلام کا تو یہ حال تھا کہ وہ شادی کی خاطر اپنے خسر کی دس سال تک خدمت کرنے کے لیے تیار ہو گئے اور اب کی یہ ہے کہ تھوڑی سی بات پر لڑائی اور فساد ہو جاتا ہے۔آخر بیوی پر اُس کے ماں باپ کا بھی حق ہے اور یہ ای ظاہر ہے کہ وہ کماتی نہیں، کما تا مرد ہی ہے اور وہ اُس کے گھر کا کام کرتی ہے اور بچوں کو پالتی ہے۔اس لیے اُس کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ذمہ داری مرد پر ہے۔اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے تو اُس کا فرض ہے کہ اپنی ساس اور خسر کی ضرورتوں کو پورا کرے۔بیشک قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ ہر شخص پر اتنی ہی ذمہ داری ہوتی ہے جتنی اُس کی طاقت ہوتی ہے 5 لیکن اگر وہ مقدور برابر بھی خدمت نہیں کرتا تو وہ عقود کا توڑنے والا ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم ہوتا ہے۔اسی کی طرح اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے ماں باپ کی عزت نہیں کرتی تو وہ بھی عقو دکو توڑ تی ہے کیونکہ جب اُس نے ایک مرد کے ساتھ شادی کی تھی تو اُس نے یہ بھی اقرار کیا تھا کہ میں مرد کی ذمہ داریوں کو بھی پورا کروں گی اور مرد پر ذمہ داریاں اُس کی ماں کی بھی ہیں اور اُس کے باپ کی بھی ہیں۔پس اُس عورت پر بھی اپنے خاوند کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اگر وہ کی اُن کی خدمت نہیں کرتی تو مجرم بن جاتی ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک دفعہ دور سے سفر کر کے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ملنے گئے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کو شکار کا شوق تھا۔وہ شکار کو گئے ہوئے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے باہر سے آواز دی کہ اسماعیل ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیوی کسی عرب قوم سے تھی اس لیے وہ حیران ہوئی کہ یہ کون شخص ہے جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کا نام اس بے تکلفی سے لے رہا ہے۔اُس نے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ آپ نے فرمایا میں ابراہیم