خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 329

$1959 329 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہوں لیکن اُس نے یہ بے وقوفی کی کہ اُس نے یہ خیال نہ کیا کہ یہ دُور سے آئے ہیں، میں انہیں پانی پلاؤں اور ان کی خاطر تواضع کروں۔اُس نے صرف اتنا پوچھا کہ آپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کیا پیغام دینا ہے؟ آپ نے فرمایا اُسے کہنا کہ تیری دہلیز بہت چھوٹی ہے اس کو بدل دو۔جب حضرت اسماعیل علیہ السلام واپس آئے تو اُن کی بیوی نے بتایا کہ ایک شخص آیا تھا جو ابراہیم نام بتا تا تھا۔جاتے ہوئے وہ یہ پیغام دے گیا تھا کہ تیری دہلیز بہت نیچی ہے اس کو بدل دو۔آپ نے فرمایا وہ میرے باپ تھے اور اُن کے پیغام کا یہ مطلب ہے کہ تو نے اُن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔اس کی لیے میں تمہیں رکھنے کے لیے تیار نہیں۔میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔6 تو عورت پر اپنے خاوند کے ماں باپ کی خدمت کرنا اور اُن کی نگہداشت کرنا ویسا ہی فرض ہے جیسے مرد پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ماں باپ کی خدمت کرے۔اگر وہ دونوں اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتے تو وہ عقود کو توڑتے ہیں اور عقود کے توڑنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے مجرم بن جاتے ہیں۔کی قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے ہر قسم کے گناہ معاف کر دیتا ہے 7 لیکن اگر کسی بندے کا قصور کیا گیا ہو تو خدا تعالیٰ اُس وقت تک اُسے معاف نہیں کرتا جب تک بندے سے بھی معافی نہ لی جائے۔پس اگر انسان کامل توحید پر چلنے کی کوشش کرے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت بھی کرے لیکن وہ بندوں کے عقو دکو مثلاً ماں باپ کے عقودکو ، دوستوں کے عقود کو یا بیوی ای یا خاوند کے عقود کو پورا نہ کرے تو وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مجرم بننے سے بچ نہیں سکتا کیونکہ ان کا پورا کرنا ( الفضل 12 فروری 1959 ء ) بھی ضروری ہے۔1 : المائدة : 2 2 : بخارى كتاب الطلاق باب من طَلَّقَ وَ هَلْ يُوَاجِهُ الرَّجُلُ امرأَتَهُ بالطَّلاق :3 قَالَ إِنّى أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَى هُتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَنى حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ (القصص: 28) 4 : قَالَ ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَى “ (القصص: 29) 5 : لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: 287) 6 : بخارى كتاب الانبياء باب يَزِفُونَ النَّسَلَانُ فِي الْمَشْى