خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 16

$1958 16 خطبات محمود جلد نمبر 39 نہیں سمجھا تھا مگر اب جو آپ کا پیغام چھپا ہے تو ہم نے اس کی حقیقت کو سمجھا ہے۔اس لیے اب ہم نے وقف اور روپیہ کے لیے اپنے نام لکھوانے شروع کر دیئے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد اب تک چالیس وقف آچکے ہیں اور بارہ ہزار کے قریب آمد کا اندازہ ہے۔میں نے جو شکل وقف کی جماعت کے سامنے پیش کی ہے اور جس کے ماتحت میرا ارادہ ہے کہ پشاور سے کراچی تک اصلاح وارشاد کا جال بچھا دیا جائے اس کے لیے ابھی بہت سے روپیہ کی ضرورت ہے۔اس کام کے لیے کم سے کم چھ لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے۔اگر چھ لاکھ روپیہ سالا نہ آنے لگ جائے تو پھر پچاس ہزار روپیہ ماہوار بنتا ہے اور اگر ہم ایک واقف زندگی کا ماہوار خرچ پچاس روپیہ رکھیں تو ایک ہزار مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں اور اس طرح ہم پشاور سے کراچی تک کی رُشد و اصلاح کا جال پھیلا سکتے ہیں۔بلکہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم نے رُشد و اصلاح کے لحاظ سے مشرقی اور مغربی پاکستان کا گھیرا کرنا ہے تو اس کے لیے ہمیں ایک کروڑ روپیہ سالانہ سے بھی زیادہ کی کی ضرورت ہے۔اگر ڈیڑھ کروڑ روپیہ سالانہ آمد ہو تو بارہ لاکھ پچاس ہزار روپیہ ماہوار بنتا ہے۔اگر بارہ لاکھ روپیہ بھی ماہوار آئے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک واقف زندگی کا پچاس روپیہ ماہوار خرچ مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے چوبیس ہزار نئی طرز کے واقف زندگی بن جاتے ہیں۔اور چوبیس ہزار واقف زندگی دولاکھ چالیس ہزار میل کے اندر پھیل جاتے ہیں کیونکہ ہم نے دس دس میل پر ایک ایک آدمی رکھنا ہے اور گوا بھی تو اتنی رقم جمع نہیں ہو سکتی لیکن اگر اتنی رقم جمع ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے چوبیس ہزار آدمی رکھے جا سکتے ہیں۔ہاں! اگر یہ واقف زندگی ہمت کریں اور خوب کوشش کر کے جماعت بڑھانی شروع کر دیں تو ممکن ہے کہ اگلے سال ہی یہ صورت پیدا ہو جائے۔اب تک جو آمد آئی ہے وہ ایسی نہیں کہ اُس پر زیادہ تعداد میں نو جوان رکھے جاسکیں۔لیکن جب روپیہ زیادہ آنا شروع ہو گیا اور نو جوان بھی زیادہ تعداد میں آگئے اور انہوں نے ہمت کے ساتھ جماعت کو بڑھانے کی کوشش کی تو جماعت کو پتا لگ جائے گا کہ یہ سکیم کیسی مبارک اور پھیلنے والی ہے۔اس سکیم میں چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے جہاں اپنی طرف سے اور اپنے خاندان کی طرف سے چندہ لکھوایا ہے وہاں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کراچی کے پاس ٹھٹھہ میں میری زمین ہے اُس میں سے میں اس سکیم کے ماتحت دس ایکڑ زمین وقف کرتا ہوں۔دس ایکٹر میں خود اِنشَاءَ اللهُ