خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 254

$1958 254 خطبات محمود جلد نمبر 39 میں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ نا معلوم وہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے یا نہیں مگر سنت تو وہ ہے جو تمام امت میں چلی آتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے سیکھا اور صحابہ سے تابعین نے سیکھا اور تابعین سے تبع تابعین نے سیکھا۔اسی طرح آج تک برابر اس پر امت محمدیہ عمل کرتی چلی آ رہی ہے۔مثلاً نکاح ہے۔نکاح کی تفاصیل قرآن کریم میں درج نہیں۔لیکن نکاح سارے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔چاہے وہ خارجی ہوں حنفی ہوں ، شیعہ ہوں یا کسی اور فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں۔یعنی نکاح کے بغیر چاہے وہ کسی قسم کا ہو، چاہے اُس کا نام منعہ ہی رکھ لو کوئی عورت رکھنی ناجائز سمجھی جاتی ہے۔گویا قدر مشترک سنت کو کہتے ہیں۔روایت کے متعلق اختلاف ہو سکتا ہے کہ اُس کا راوی قوی تھا یا ضعیف مگر سنت کے متعلق کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کیونکہ یہ سب لوگوں کے درمیان بطور قدر مشترک کے پائی جاتی ہے۔مثلا لا إِلهُ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے۔شیعہ بھی یہی کہتے ہیں ك لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا ہستی بھی یہی کہتے ہیں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا ، خارجی بھی یہی کہتے ہیں کہ لا إله إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔یہ قدر مشترک ہے اور سنت ہے اور یہ قرآن کریم کے بعد درجہ رکھتی ہے کیونکہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے جو ثابت شدہ ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ثابت شدہ عمل بہر حال امت کے اقوال اور فتووں سے بڑھ کر ہے کیونکہ امت کے علماء خواہ کتنے بڑے ہو جائیں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔اور ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ فلاں بات میں علماء نے غلط کہا ہے مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلطی کی ہے۔اور اگر کوئی شخص ایسا کہے تو اس کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے ایک پٹھان کے متعلق مشہور ہے کہ اُس نے کنز پڑھی ہوئی تھی۔ایک دفعہ اس نے حدیث پڑھی لکی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن گو گودی میں اُٹھا لیا اور جب سجدہ میں تشریف لے گئے تو انہیں نیچے رکھ دیا۔6 وہ یہ حدیث پڑھ کر کہنے لگا جو محمد صاحب کی نماز ٹوٹ گئی کیونکہ انہوں نے حرکت کبیرہ کی ہے اور حرکت کبیرہ فقہ حنفیہ کے مطابق نماز توڑ دیتی ہے۔ایک شخص نے یہ بات سنی تو اُس نے کہا کم بخت ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں بتایا ہے کہ نماز اس اس طرح پڑھا کرو ور نہ ہمیں نماز کا کیا پتا تھا اور انہی کے متعلق تم کہتے ہو کہ اُن کی نماز ٹوٹ گئی۔وہ کہنے لگا کنز میں یہی لکھا