خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 205

$1958 205 خطبات محمود جلد نمبر 39 کہ بڑا اچھا سینما آ گیا ہے۔جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہوتے ہیں کہ بڑا اچھا میراثی آ گیا ہے۔غرض مسلمان برابر عیش و طرب میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے اس بات سے ڈرایا تھا اورفرمایا تھا که يَأْتِي عَلَيْكَ زَمَنْ كَمَثَلِ زَمَنِ مُوسَی 3 یعنی تجھ پر بھی ویسا ہی زمانہ آنے والا ہے جیسے موسیقی پر آیا تھا۔عام طور پر اس کے یہ معنے سمجھے جاتے ہیں کہ جس طرح موسوی قوم کو فرعونی مظالم کا مقابلہ کرنا پڑا اُسی طرح جماعت احمدیہ کو بھی مختلف ابتلاؤں میں سے گزرنا پڑے گا۔لیکن ایک اور بات جس کی کی طرف اس الہام میں اشارہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ یہودی مرد اور یہودی عورتیں ناچنے گانے میں بڑی مشہور ہیں۔پس اس الہام میں اِس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تیری قوم پر بھی ایک ایسا ہی زمانہ آنے والا ہے یعنی وہ بھی اپنے اصل فرض کو بھول کر گانے بجانے کی طرف توجہ کر لیں گی۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر تاریخ کی گواہی سے بھی کسی قوم کو ہوش نہیں آتا اور وہ اسی راستہ پر قدم مارتی جاتی ہے جس پر چل کر پہلے لوگ ہلاک ہوئے تو اس قوم کا مرجانا اس کی زندگی سے بہتر ہوتا ہے۔میرے نز د یک ملتان کے سیکرٹری کو جس نے یہ چٹھی لکھی ہے مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔اُسے چاہیے تھا کہ ساری جماعت کے سامنے مسجد میں اس نوجوان کو کھڑا کرتا اور اُسے کہتا کہ وہ سب لوگوں کے سامنے یہ الفاظ کہے کہ میں اپنے اس فعل سے ساری جماعت کو تباہ کر دوں گا، میں احمدیت کو مٹا دوں گا کیونکہ جو کام میں کر رہا ہوں اس سے میں بھی مٹوں گا اور احمدیت بھی مٹے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک یث سے خبیث منافق بھی یہ الفاظ کہنے کی جرات نہیں کرے گا۔صرف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ جماعت سے اپنی علیحدگی کا اعلان کر دے۔لیکن ایسا شخص جماعت سے جتنی جلدی نکل جائے اُتنا ہی اچھا ہے اور اُس کے نکلنے سے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ ہماری ترقی ہی ہوگی۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسی غلطی میں مبتلا رہے کہ میں اپنے ہاتھ سے مسلمانوں کو کس طرح سزا دوں حالانکہ سوال یہ ہے کہ جب مسلمان دوسرے مسلمانوں کو مارنے کے لیے کھڑے ہو جائیں تو وہ مسلمان ہی کب رہتے ہیں کہ اُن کو سزا دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کی جائے۔میں تو سمجھتا ہوں اگر حضرت عثمان کے زمانہ میں مروان کو مروا دیا جاتا اور عبداللہ بن سبا کو مروا دیا جاتا تو یہ فتنہ ہی دب جاتا۔مروان یوں خبیث الفطرت آدمی نہیں تھا لیکن جب اُس کی وجہ سے دوسرے مسلمان مارے جا رہے