خطبات محمود (جلد 39) — Page 206
206 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 تھے تو اگر اُس کی گردن اُڑا دی جاتی تو اس میں کیا حرج تھا۔اسی طرح عبد اللہ بن سبا سارے کو فہ اور کی مصر اور بصرہ میں فساد برپا کر رہا تھا مگر اُس کی گردن نہیں اُڑائی گئی۔گردن اُڑائی گئی تو حضرت عثمان کی اُڑائی گئی جو خدا تعالیٰ کے خلیفہ تھے۔اگر مروان اور عبداللہ بن سبا کی گردنیں اُڑا دی جاتیں تو نہ حضرت کی علی کا واقعہ ہوتا اور نہ امام حسین کی شہادت ہوتی۔پس ایسے لوگ اگر الگ ہو جائیں گے تو ہمارے لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔پہلے لوگوں نے اس وجہ سے نقصان اٹھایا کہ انہوں نے مجرموں کو سزائیں نہ دیں اور یہ خیال کر لیا کہ مسلمانوں میں فساد نہ ہو۔حالانکہ سزا دینا فساد پیدا کرنا نہیں بلکہ فساد کو مٹانے کا ایک ذریعہ ہے۔پھر باقی جماعت کا بھی کام ہے کہ وہ ایسے مواقع پر متحد ہو جایا کرے اور کسی کو فساد پھیلا نے نہ دے۔اصل میں سارے کام جماعت کے ہوتے ہیں اکیلا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔اگر حضرت عثمان کے زمانہ میں تمام مدینہ والے فتنہ پھیلانے والوں کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاتے تو کسی کی جرات نہیں تھی کہ وہ حضرت عثمان پر حملہ کر سکتا۔انہیں یہ جرات اسی لیے ہوئی کہ انہوں نے دیکھا کہ حضرت عثمان اُس وقت اکیلے ہیں اور کوئی اُن کی مدد نہیں کر رہا۔لوگ یہ تو بخشیں کرتے ہیں کہ حضرت عثمان کا کیا قصور تھا کہ اُن کے زمانہ میں یہ فسادات ہوئے ؟ مگر یہ کبھی بحث نہیں کرتے کہ مصر کے مسلمانوں کا کیا قصور تھا، کوفہ کے مسلمانوں کا کیا قصور تھا، بصرہ کے مسلمانوں کا کیا قصور تھا، مدینہ کے مسلمانوں کا کیا قصور تھا؟ حالانکہ اصل سوال ی جس پر بحث ہونی چاہیے وہ یہی ہے۔اگر اُس وقت سارے کے سارے مسلمان فتنہ پردازوں کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاتے تو کیا مروان یا عبداللہ بن سبا کی مجال تھی کہ وہ فتنہ پھیلا سکتے ؟ پس اس کی جھگڑے کا اصل حل یہی ہے کہ یہ ساروں کا قصور تھا۔اگر وہ سب کے سب مل جاتے تو کسی کو جرات نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ کوئی فتنہ پیدا کر سکتا۔دیکھ لو حضرت خلیفہ اول کی وفات پر مولوی محمد علی صاحب نے ایک بڑا فتنہ کھڑا کیا۔وہ ان جماعت میں بڑا اثر اور رسوخ رکھنے والے تھے مگر ہماری جماعت نے اُن کے مقابلہ میں ایسا اتحاد رکھا کہ وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔اور پھر تو ایسی حالت ہوگئی کہ یا تو ایک زمانہ میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ اٹھانوے فیصدی جماعت ہمارے ساتھ ہے اور دو فیصدی ان کے ساتھ اور یا پھر انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ تو صرف دو فیصدی جماعت ہے اٹھانوے فیصدی جماعت مرزا محمود احمد کے ساتھ