خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 162

$ 1958 162 خطبات محمود جلد نمبر 39 گے اور لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم مسیح کے معجزہ سے شفایاب ہوئے ہیں۔جب عیسائیوں پر یہ اعتراض ہوا تو انہوں نے بعد کے ایڈیشنوں سے اس عبارت کو ہی نکال دیا۔چنانچہ ہمارے پاس وہ اجھیلیں بھی موجود ہیں جن میں یہ عبارت درج ہے اور وہ انجیلیں بھی موجود ہیں جن میں سے یہ عبارت نکال دی گئی ہے۔اب اگر انجیل ان کے نزدیک خدا کی کتاب تھی تو وہ اس واقعہ کو کیوں نکالتے۔اور جب یہ واقعہ نکل گیا تو ثابت ہو گیا کہ انجیل محترف و مبدل ہو چکی ہے۔غرض عیسائیوں کے اس ٹریکٹ کا ہمارے مبلغ نے جواب شائع کیا ہے۔یہاں کی جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اس ٹریکٹ کی تقسیم میں حصہ لیں اور تمام لوگوں تک اسے پہنچا ئیں۔اگر پندرہ میں خدام مل کر یہ کام کریں تو نہایت آسانی سے ہر آدمی تک یہ ٹریکٹ پہنچایا جا سکتا ہے۔لیکن ی عیسائیوں کو چونکہ امریکہ سے روپیہ ملتا ہے اور ہمارے پاس اتنا روپیہ نہیں اس لیے جس شخص کو بھی یہ ٹریکٹ دیں اُس سے یہ وعدہ لے لیں کہ وہ آگے آٹھ دس آدمیوں کو یہ ٹریکٹ ضرور پڑھائے گا تا کہ یہ سارے شہر میں پھیل جائے اور عیسائیوں کی پھیلائی ہوئی غلط بیانیوں کا ازالہ ہو جائے۔دوسری چیز جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آجکل ہمارا ملک ایک بڑی مصیبت میں سے گزر رہا ہے اور ملکی سیاسیات اور حالات میں ایسی الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے لوگوں میں بڑی بے چینی پائی جاتی ہے۔مثلاً کشمیر کے لیڈروں میں سے چودھری غلام عباس صاحب نے اعلان کیا ہے کہ ہمارے جنتے جائیں گے اور جنگ بندی کی سرحد کو عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو جائیں گے۔اب جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ پاکستان سے جتھے جائیں اور جنگ بندی کی لائن کو عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو جائیں اس مصیبت کو دیکھ کر حکومت ان کی جتھوں کو روکنے اور لیڈروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔مگر پھر بھی آج کے اخبار میں لکھا تھا کہ لوگوں میں بڑا جوش پایا جاتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس حد کو عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو جائیں۔ہماری حکومت کے ذمہ دار افراد کو یہ مصیبت اس لیے پیش آئی ہے کہ وہ انگریزوں اور کی امریکنوں سے ڈرتے ہیں اور پھر ابھی تک وہ جنگ کے لیے پوری طرح تیار بھی نہیں۔پاکستانی فوج کے سپاہی تو بڑے بہادر اور دلیر ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ ابھی تک ان کے پاس سامانِ جنگ کافی نہیں ہے اور نہ اس سامان کو تیار کرنے والے کارخانے ابھی خاطر خواہ تعداد میں ہیں۔اگر جتھے جنگ بندی