خطبات محمود (جلد 39) — Page 145
$1958 145 خطبات محمود جلد نمبر 39 گیا۔وہ کہنے لگا یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں سے کہا ہو گا جو مسجد میں کھڑے ہوں گے آپ سے تو نہیں کہا۔انہوں نے جواب دیا کہ کہا ہو گا لیکن میں نے سمجھا کہ اگر میں نے اس حکم کی تعمیل نہ کی اور اس وقت میری جان نکل گئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم ایسا رہ جائے گا جس کی میں نے اطاعت نہیں کی ہوگی۔اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ خواہ آپ نے کسی کو مخاطب کیا ہو، جب میرے کانوں میں آپ کی آواز پڑگئی ہے تو میں اس کی تعمیل کروں۔یہ وہ اطاعت کی روح تھی جو صحابہ میں پائی جاتی تھی۔اسی طرح دیکھ لو شراب کی عادت کتنی خطرناک چیز ہے۔لوگ زور لگاتے ہیں مگر یہ عادت نہیں چھٹتی۔عرب میں بھی اسلام سے پہلے شراب کا بہت رواج تھا۔حتی کہ امراء پانچ نمازوں کے اوقات میں پانچ دفعہ شرابیں پیا کرتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے۔جب شراب حرام ہوئی تو جس مجلس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی حرمت کا اعلان فرمایا اُس میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے تو سن لیا مگر وہ لوگ جو گھروں میں تھے اُن کے کانوں تک ابھی یہ بات نہیں پہنچی تھی۔ایک جگہ شادی کی تقریب تھی اور شراب کے مٹکے بھر کر انہوں نے رکھے ہوئے تھے۔ایک دو مکے ختم ہو چکے تھے اور تین چار باقی تھے اور پھر وہ سارے کے سارے شراب کے نشہ میں مخمور تھے۔اتنے میں ایک شخص گلی میں سے گزرا اور اُس نے کہا کہ سنو! آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آج سے میں کی مسلمانوں پر شراب کی حرمت کا اعلان کرتا ہوں۔اُس وقت ایک آدمی نے دوسرے کی طرف دیکھا اور ان کہا اس سے پوچھو تو سہی یہ کیا کہہ رہا ہے۔دوسرے نے ڈنڈا اٹھایا اور شراب کے مٹکوں کو توڑ دیا۔یہاں تک کہ وہ شراب بہتے ہوئے گلی تک پہنچ گئی۔8 وہ کہنے لگا تم نے یہ کیا کیا پہلے پوچھ تو لینا تھا کہ کیا تی بات ہوئی ہے۔اُس نے کہا جب ہمارے کانوں میں یہ آواز پہنچ گئی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو حرام کر دیا ہے تو میں پہلے مشکا کو توڑوں گا اور پھر پوچھوں گا کہ کیا بات ہے۔یہ وہ طریق تھا جس پر صحابہ نے قدم مارا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو کمال تک پہنچا دیا۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ اُن لوگوں کو جو اپنی بیویوں کو بے پردہ رکھتے ہیں تنبیہ کرتا ہوں اور انہیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باقی احمدی بھی مجرم ہیں کیونکہ ش اس لیے کہ فلاں صاحب بڑے مالدار ہیں تم اُن کے ہاں جاتے ہو، اُن سے مل کر کھانا کھاتے