خطبات محمود (جلد 39) — Page 144
144 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 جب وہ خندق پار کر کے اُس طرف آ جاتے تھے جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ تھا تو وہ بیوقوفی سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کی طرف بڑھنا شروع کر دیتے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ پر اتنے فدا تھے کہ جب وہ سمجھتے تھے کہ ان لوگوں کا منشا یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں تو مرد، عورتیں اور بچے پاگلوں کی طرح دشمن کے لشکر کے سامنے آجاتے تھے اور اُس کو شکست ہو جاتی تھی۔اگر وہ یہ بیوقوفی نہ کرتے کہ محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے خیمہ کی طرف رُخ کرتے تو ممکن ہے اُن کو احزاب میں فتح ہو جاتی۔یہ عشق کا جنون ، کامل ایمان اور کامل فرمانبرداری کی وجہ سے ہی تھا۔ان لوگوں میں تو ایمان تھا میں تو دیکھتا ہوں کہ صحیح الفطرت غیر مسلموں میں بھی غیرت ہوتی ہے۔جب میں نے 1912ء میں حج کیا تو میں ایک اٹالین جہاز میں بیٹھ کر پہلے مصر گیا تھا اور پھر مصر سے حج کے لیے گیا تھا۔اُس کی اٹالین جہاز پر ایک ڈاکٹر تھا جس کی بیوی مر چکی تھی۔میں نے اُس سے کہا کہ تم دوبارہ شادی کیوں نہیں کرتے ؟ کہنے لگا کہ میں اگر شادی کروں گا تو ایشیا میں کروں گا میں یورپ میں نہیں کروں گا۔اس کی طبیعت کچھ مذاقیہ تھی۔اُس نے نقل کر کے مجھے دکھایا اور کہا کہ یورپین عورت جب خاوند آتا ہے تو منہ بسور کے بیٹھ جاتی ہے اور جب غیروں کے سامنے جاتی ہے تو پوڈر اور لپ سٹک لگاتی ہے۔میں ایسی عورت سے شادی نہیں کروں گا۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی شرط نہیں غیرت مند انسان خواہ کسی کی مذہب کا ہوا ایسی حرکات سے پر ہیز کرنا پسند کرتا ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ خطبہ پڑھ رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کناروں پر کھڑے ہیں۔معلوم ہوتا ہے مسجد میں جگہ تنگ تھی اور لوگوں نے کناروں پر کھڑے ہو کر خطبہ سننا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا بیٹھ جاؤ۔ایک صحابی اس وقت مسجد کی طرف آ رہے تھے اور ابھی گلی میں ہی تھے کہ اُن کے کانوں میں یہ آواز پہنچ گئی اور وہ اُسی وقت زمین پر بیٹھ گئے اور انہوں نے گھسٹ گھسٹ کر مسجد کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔کوئی شخص پیچھے سے آ رہا تھا۔وہ انہیں دیکھ کر کہنے لگا آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ اتنے بڑے آدمی ہو کر آپ نے اکڑوں بیٹھ کر پیروں کے بل چلنا شروع کر دیا ہے؟ انہوں نے کہا میرے کان میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابھی یہ آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ۔اس لیے میں یہ آواز سنتے ہی بیٹھ