خطبات محمود (جلد 39) — Page 87
$1958 87 خطبات محمود جلد نمبر 39 تک کوئی بندہ یہ محسوس کرے کہ مجھے روحانی غذا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور ملتی رہے گی اُس وقت تک وہ کوشش کرے گا کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکے مگر جب اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتی جائے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے جو کچھ ملنا تھامل چکا اور کچھ نہیں مل سکتا تو پھر وہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوگا بلکہ اُس چیز کے اردگر دگھومتا رہے گا۔اس نکتہ کو سمجھتے ہوئے ہماری جماعت کو دو باتوں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ایک تو یہ کہ دنیا جب اس قدر خطر ناک طور پر شرک کی بلا میں مبتلا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کی حکومت سے دنیا باہر ہو رہی ہے ہمارے دائیں بائیں اور آگے پیچھے خدا تعالیٰ کو ماننے اور اُس سے محبت کا دعوی کرنے والے اُس کی حکومت سے باہر اور اُس سے بغاوت کر رہے ہیں تو ہمارے اندر کی کس قدر گھبراہٹ پیدا ہونی چاہیے۔کوئی ملک جس میں بغاوت پیدا ہو چکی ہو اس اطمینان سے نہیں کی بیٹھ سکتا جس اطمینان سے ہماری جماعت کے لوگ بیٹھے ہیں۔فرض کرو انگلستان میں بغاوت ہو جائے یا کسی اور ملک مثلاً جرمنی، اٹلی یا فرانس میں بغاوت ہو جائے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ حکومت کے سپاہی اس اطمینان سے بیٹھے رہیں گے جس اطمینان سے ہم بیٹھے ہیں؟ یا وہ رات دن لڑائی اور مقابلہ کے لیے تیاری کریں گے؟ شرک بھی ایک روحانی بغاوت ہے۔اس لیے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں دنیا سے روحانی بادشاہت مٹ جائے گی انہیں دن رات یہ گھبراہٹ ہونی چاہیے اور چین نہیں لینا چاہیے جب تک اس بغاوت کو فرو نہ کر لیں۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی طرف جو الفاظ منسوب کیے گئے ہیں بیشک اُن الفاظ پر ہم اعتراض کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اُن کی یہ دعا کہ اے ہمارے باپ ! تو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے ، تیری بادشاہت آئے ، تیری مرضی جیسی کی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔4 بالکل صحیح ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ دنیا میں شرک قائم ہوکر اللہ تعالیٰ کی بادشاہت مٹ چکی ہے اور وہ اپنے صحابہ کو یہ بتارہے تھے کہ تم پر لازم ہے کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرو اور وہ ان کے اندر ایک درد پیدا کرنا چاہتے تھے۔آج بھی یہی حالت ہے کہ ہر شخص نے ظاہری اور باطنی معبود بنائے ہوئے ہیں اور سب خدا تعالیٰ سے دور ہورہے ہیں۔کوئی تو یہ کہتا ہے کہ ہمارے فلاں فلاں آدمیوں کو خدائی طاقتیں حاصل ہو گئی ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ یہ طاقتیں ہم کو مل گئی ہیں۔عیسائیوں میں جو شرک ہے وہ