خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 322

$1959 322 خطبات محمود جلد نمبر 39 گھر میں پولیس کو گھنے نہیں دیں گے۔ڈپٹی صاحب بڑے نرم دل تھے۔وہ باہر نکلے اور انہوں نے کہا نہیں صاحب! قاتل میرے گھر میں نہیں گھسا۔پھر انہوں نے قسم کھائی تب جا کر لوگ ٹھنڈے ہوئے۔پھر پولیس اندر داخل ہوئی اور اُس نے تلاشی لی تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔دراصل لیکھرام کو کسی تی آدمی نے نہیں مارا تھا کہ وہ ڈپٹی برکت علی خان صاحب کے گھر میں گھستا بلکہ اُسے فرشتے نے مارا تھا اور وہ کہاں پکڑا جا سکتا تھا۔پہلے میں سمجھتا تھا کہ ” برکت علی محمدن ہال اُن ملک برکت علی صاحب کے نام پر ہے جو مسلم لیگ کے سیکرٹری تھے لیکن ان ریٹائر ڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے مجھے مری میں بتایا کہ یہ ہال ان برکت علی خان صاحب کے نام پر ہے جن کے زمانہ میں لیکھر ام کا واقعہ ہوا تھا۔تو اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں اپنے نشانات دکھاتا ہے۔پہلے زمانہ میں بھی وہ نشانات دکھاتا رہا ہے، اب بھی دکھا رہا ہے اور آئندہ بھی دکھاتا رہے گا۔ہمارا خدا زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔اُس پر نہ کبھی اونگھ آتی ہے، نہ نیند آتی ہے، نہ موت آتی ہے اور نہ کمزوری آتی ہے۔اس خدا کے نشانات نہ کبھی کم ہوئے ہیں اور نہ کم ہوں گے۔بیوقوف سمجھتے ہیں کہ وہ نشانات حضرت آدم علیہ السلام یا حضرت نوح علیہ السلام یا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ختم ہو گئے حالانکہ وہ نشانات نہ حضرت آدم علیہ السلام پر ختم ہوئے ہیں، نہ حضرت نوح علیہ السلام پر ختم ہوئے ہیں، نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ختم ہوئے کی ہیں، نہ حضرت موسی علیہ السلام پر ختم ہوئے ہیں، نہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ختم ہوئے ہیں اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئے ہیں وہ نشانات قیامت تک چلتے چلے جائیں گے اور لوگوں کے ایمانوں کو تازہ کرتے رہیں گے۔اگر خدا تعالیٰ کے معجزات، نشانات اور تائیدات سماوی مٹا دی جائیں تو ایمان صرف رسمی اور قصہ کہانی بن کر رہ جائے اور قصہ کہانیوں کا ایمان انسان کو کوئی فائدہ نہیں کی دیتا۔ایمان اُسی وقت فائدہ دیتا ہے جب وہ یقین کی حد تک پہنچ جائے اور اُسے یقین کی حد تک پہنچانا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے بندہ کے اختیار میں نہیں۔اللہ تعالیٰ جس پر مہربانی کرے اُس کو یقین کامل حاصل ہو جاتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ کی نصرت نہ ملے اُس کو باوجود قرآن کریم کے پڑھنے اور ظاہری ایمان حاصل ہونے کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سا ایمان حاصل نہیں ہوتا۔وہ اس دنیا میں اندھا ہی آتا ہے اور اندھا ہی اس دنیا سے رُخصت ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے تو اس کی بخشش ہو سکتی ہے ور نہ وہ اپنے زور سے کسی بخشش کا مستحق نہیں ہو سکتا۔پس اللہ تعالیٰ سے دُعائیں کرتے رہنا چاہیے کہ و