خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 308

$1959 308 خطبات محمود جلد نمبر 39 حکومت پاکستان نے سکھوں کو جو جماعت احمدیہ سے بہت زیادہ طاقتور ہیں سینکڑوں کی تعداد میں ننکانہ صاحب آنے کی اجازت دی ہے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ بھارتی حکومت احمدیوں کو جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان جانے کی اجازت نہ دے حالانکہ وہ بہت کمزور ہیں اور ان میں اتنی طاقت نہیں کہ حکومتِ ہندوستان ان سے کوئی خطرہ محسوس کرے۔اس کی بجائے پرتاپ“ نے یہ لکھا ہے کہ گویا میں نے کہا ہے کہ بھارت قادیان اور اس کے ارد گرد کا علاقہ پاکستان کو واپس کر دے۔اول تو یہ بات غلط ہے۔میں نے اپنی تقریر میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔لیکن اگر یہ مسیح بھی ہوتی تب بھی میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی ہونے کی صورت میں میں اگر یہ مشورہ حکومت ہندوستان کو دوں کہ وہ ایک علاقہ جس میں مسلمان بستے تھے پاکستان کو دے دے تو اس میں کیا حرج ہے جی جبکہ خود بعض ہندوستانی بھی انہیں یہ مشورہ دے رہے ہیں۔ہندوستان کی مشہور سوشل لیڈر مس مرد ولا سارا بائی (MRIDULA SARABHAI)1 نے بھی یہ مشورہ دیا ہے کہ بھارتی کشمیر کو آزاد کر دے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ کشمیر پاکستان کو دے دیا جائے۔مس مرد ولا سارا بائی ہندوستان کی مشہور لیڈر ہے اور گاندھی جی کی بہت دوست ہے تقسیم ملک کے بعد گاندھی جی نے اس عورت کو اپنا نمائندہ بنا کر میرے پاس بھیجا تھا اور وہ مجھے رتن باغ لاہور میں ملی تھیں۔اس کے ساتھ مسٹر پنجابی انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر بھی تھے۔اس نے مجھے کہا کہ سنا ہے کہ احمدی کشمیر میں لڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا اس میں کیا حرج ہے؟ پاکستانی احمدی اگر پاکستان کی طرف سے لڑ رہے ہیں تو بھارت کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔جب ہندوستانی احمدی ہندوستان کی مدد کرتے ہیں تو پاکستانی احمدی اگر پاکستان کی مدد کریں تو اس میں کیا حرج ہے؟ میں نے اُسے یہ بھی بتایا کہ نہ صرف پاکستانی احمدی کشمیر کے لیے لڑ رہے ہیں بلکہ احمدی رضا کاروں کا افسر میرا اپنا بیٹا ہے جو میرے حکم سے وہاں گیا ہوا ہے۔بعد میں وہ مسٹر پنجابی کو لے کر باہر چلی گئی اور مجھ سے اُس نے کہا میں نے آپ سے ایک پرائیویٹ بات کرنی ہے۔چنانچہ واپس آکر اُس نے مجھ سے کہا کہ گاندھی جی نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور دریافت کیا ہے کہ کیا آپ اپنے آپ کو ہندوستانی سمجھتے ہیں یا پاکستانی ؟ میں نے اُن - کہا آپ میری طرف سے گاندھی جی کو کہہ دیں کہ اس میں شبہ نہیں کہ ہم پہلے ہندوستانی تھے لیکن آ۔لوگوں نے پولیس اور عوام سے ہم پر حملہ کروایا اور قادیان سے نکالا۔اب ہم ہندوستان سے نکل آ۔