خطبات محمود (جلد 39) — Page 278
278 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 نہیں ہو سکتے تھے۔اُس زمانہ میں جہاد بالسیف تھا اور مکہ میں رہ کر انسان مکہ والوں سے لڑ نہیں سکتا تھا تو لیکن اب جہاد بالسیف کی بجائے جہاد باللسان ہے یعنی لوگوں کو ہدایت اور صداقت پہنچانا اور انہیں کی اسلام کی تبلیغ کرنا۔اس لیے اب سقَايَةُ الحاج اور جہاد دونوں چیزیں اکٹھی ہو سکتی ہیں بلکہ ہمارے جلسہ سالانہ کے دنوں میں سقایہ تو الگ رہا کھانا کھلانے کا فرض بھی آجاتا ہے۔چنانچہ ربوہ کے رہنے والے باہر سے آنے والوں کو ان دنوں پانی بھی پلاتے ہیں اور کھانا بھی کھلاتے ہیں۔اور پھر وہ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ اردگرد کے علاقہ میں جا کر دوسرے لوگوں کو سلسلہ سے روشناس کریں، انہیں سمجھائیں اور بتائیں کہ احمدیت کے متعلق لوگوں کو جو یہ غلط فہمیاں ہیں وہ کیوں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ احمدیت کے مخالف ہیں وہ صرف اس لیے مخالفت کرتے ہیں کہ انہیں بعض لوگوں نے احمدیت کے متعلق غلط باتیں پہنچا دی ہیں ورنہ جو لوگ ہمارا لٹریچر پڑھ لیتے ہیں اُن کی تمام غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں۔مجھے یاد ہے پچھلے سال کچھ وکلا ءلائکپور سے مجھے ملنے کے لیے آئے۔اُن میں سے کسی شخص نے ایک سوال کیا تو انہی میں سے ایک دوسرا شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا تم غلطی کر رہے ہو تم نے مرزا صاحب کی کتابیں نہیں پڑھیں۔اگر تم پڑھتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ مرزا صاحب نے جہاد کو ضروری قرار دیا ہے۔آپ نے صرف یہ کہا ہے کہ میں اسے عارضی طور پر ملتوی کرتا ہوں کیونکہ اس کی زمانہ میں اسلام کے خلاف تلوار نہیں چل رہی۔گویا مرزا صاحب نے جہاد کو منسوخ نہیں کیا بلکہ ایک وقت تک اسے ملتوی قرار دیا ہے۔اگر اب پھر کفار اسلام قبول کرنے سے تلوار کے زور سے رو کنے لگ جائیں اور جہاد کی شرائط پوری ہو جائیں تو پھر جہاد بالسیف شروع ہو جائے گا۔تو دیکھو ایک غیر احمدی دوست نے خود اس سوال کا جواب دے دیا کہ جہاد کو منسوخ کرنے کا اعتراض درست نہیں۔مرزا صاحب کی کتب موجود ہیں، اُن کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جہاد ایک وقت تک کے لیے ملتوی ہے منسوخ نہیں کیا گیا۔تو ہمارے لیے خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں دونوں رستے کھول دیئے ہیں۔ہم باہر سے آنے والے مہمانوں کی خدمت بھی کر سکتے ہیں اور جہاد باللسان بھی کر سکتے ہیں۔پس جلسہ سالانہ پر آنے والے کسی ذاتی غرض اور منفعت کی بناء پر یہ سفر نہیں کرتے بلکہ محض خدا تعالیٰ کی خاطر کرتے ہیں اور ایک نیک مقصود ان کے ذہن میں ہوتا۔