خطبات محمود (جلد 39) — Page 277
$1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 277 جماعت کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے اور موذنوں کی اذانوں کی اصلاح کرنی چاہیے تا کہ اس کے ذریعہ نماز اور قرآن کی طرف توجہ ہو اور لوگوں میں عربی زبان سیکھنے کا شوق پیدا ہو۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو حضرت عباس جو آپ کے چچا تھے پیچھے مکہ میں ہی رہ گئے۔مکہ میں حضرت عباس کی ہمنی کا کام سقَايَة الحاج یعنی حاجیوں کو پانی پلانا تھا۔ایک دفعہ ان کی حضرت علیؓ سے بحث ہو گئی تو حضرت علیؓ نے فرمایا ہم نے ہجرت کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا مگر آپ تو تو رہے۔حضرت عباس نے کہا یہ کونسی بڑی بات ہے ہم مکہ میں رہے اور ہم نے حاجیوں کو پانی پلایا۔3 وہ یہ سمجھتے تھے کہ حاجیوں کو پانی پلانا بھی جہاد سے کم نیکی نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کی حضرت علی کے قول کو ترجیح دی ہے اور فرمایا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ، حاجیوں کو پانی پلانے سے زیادہ اہم ہے۔4 حضرت عباس نے پرانے خیالات کے ماتحت یہ بات بیان کر دی تھی حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکہ میں رہنے کا حکم دیا تھا۔سقاية الحآج تو ایک میم بات تھی۔اگر وہ کہتے کہ مجھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں رہنے کا حکم دیا تھا اس لیے میں مکہ میں ٹھہر گیا تو اُن کا جواب بہت وزنی ہوتا۔مگر عربوں میں چونکہ سقَايَةُ الحَآج کا کام بڑا اہم سمجھا جاتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اس کام کی وجہ سے وہ مکہ کے رئیس ہیں۔اور ملکہ کی ریاست سارے عرب کی تی ریاست سمجھی جاتی تھی اس لیے حضرت عباس نے یہ جواب دے دیا۔حضرت عباس کو مکہ میں ٹھہرانے کی ضرورت یہ تھی کہ مکہ میں کئی صحابہ کے بیوی بچے رہتے تھے اور حضرت عباس چونکہ مکہ کے سرداروں میں سے تھے اس لیے اُن کے اثر کی وجہ سے اُن کی حفاظت ہوتی رہتی تھی اور کفار زیادہ شرارتیں نہیں کر سکتے تھے۔دوسرے حضرت عباس کی ابوسفیان سے بڑی دوستی تھی جو مکہ کے مانے ہوئے سردار تھے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو یہ حکم دیا کہ وہ مکہ میں ہی رہیں۔فتح مکہ کے قریب حضرت عباس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اب تو مکہ میں میری ضرورت باقی نہیں رہی اب تو مجھے ہجرت کی اجازت دے دیں۔اس پر آپ نے اجازت دے دی اور فرمایا یہ آخری ہجرت ہے اس کے بعد اور کوئی ہجرت نہیں ہوگی۔5 پس سقَايَةُ الحاج بڑی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے مگر اس کا درجہ جہاد کے بعد رکھا گیا ہے کیونکہ اُس زمانہ میں سقَايَةُ الحاج اور جہاد دونوں اکٹھے