خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 276

276 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 انے چاہیں اور اذان کے الفاظ کا صحیح تلفظ بھی آنا چاہیے۔جب وہ اذان کا صحیح تلفظ سیکھ لے گا تو پھر اُسے جرات پیدا ہوگی اور وہ نماز اور اذان کے الفاظ کے صحیح معنے بھی سیکھنے کی کوشش کرے گا اور پھر قرآن کریم کی بعض سورتوں کا بھی ترجمہ سیکھ لے گا۔یہاں تک کہ وہ اچھا خاصا مؤذن بلکہ امام بن جائے گا۔پھر وہ آہستہ آہستہ باقی قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کی کوشش کرے گا اور اس طرح وہ ایک واعظ اور ناصح بن جائے گا اور پھر ترقی کرتے کرتے جماعت کا ایک سچا لیڈر بن جائے گا۔جن لوگوں میں جوش ہوتا ہے وہ اس غرض کے لیے قسم قسم کی تدبیریں کرتے ہیں کہ کسی طرح صداقت لوگوں تک پہنچ جائے۔ہمارے ایک احمدی دوست میاں شیر محمد صاحب ہوا کرتے تھے جو پھگواڑا ضلع جالندھر کے رہنے والے تھے۔وہ انکا چلایا کرتے تھے اور بالکل ان پڑھ تھے لیکن باقاعدہ الحکم منگوایا کرتے تھے اور بیسیوں افراد ان کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہوئے۔ان کا طریق تھا کہ اخبار جیب میں ڈال لیا اور اگا چلا کر روانہ ہو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد اخبار جیب میں سے نکالا اور سواریوں میں سے کسی پڑھے لکھے آدمی سے کہا آپ پڑھے ہوئے ہیں میں ان پڑھ ہوں ، آپ مجھے سنائیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔چنانچہ اُس شخص نے اخبار پڑھتے جانا اور انہوں نے سنتے جانا۔اسی طرح اخبار پڑھا پڑھا کر انہوں نے کئی افراد احمدیت میں داخل کر لیے۔جب سواریوں نے اڈہ پر اُترنے لگنا تو انہوں نے کہنا بابا جی! آپ ہمیں پھر بھی ملیں۔اس اخبار میں تو بڑی اچھی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔چنانچہ میاں شیر محمد صاحب نے اُن سے ملنے کے لیے جانا اور جو جو باتیں وہ پوچھتے اُن کے وہ جوابات دیتے اور سلسلہ کا لٹریچر بھی منگوا کر دیتے۔اسی طرح کئی لوگ اُن کے ذریعہ احمدیت میں داخل کی ہوئے۔اگر ایک ان پڑھ آدمی یہ کام کر سکتا ہے تو ایک شد بد رکھنے والا آدمی کیوں ترقی نہیں کر سکتا۔پس اپنے اندر اذان اور نماز کی رغبت پیدا کرو اور ان کی عظمت دلوں میں قائم کرو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اذان معمولی چیز ہے حالانکہ تاریخ میں حضرت عمرہ کا ایک قول آتا ہے کہ اگر خلافت کا کام میرے سپرد نہ ہوتا تو میں مؤذن کا کام کرتا۔تو دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ثانی اذان کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں اگر خلافت کا کام میرے سپرد نہ ہوتا تو میں اذان دینے کا کام پنے ذمہ لیتا۔گویا انہوں نے اذان کو دوسری خلافت قرار دیا ہے۔تو اذان کوئی معمولی چیز نہیں۔