خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 269

$1958 269 خطبات محمود جلد نمبر 39 قرآن کریم ہمیں مایوس نہیں کرتا وہ کہتا ہے وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔پھر تمہاری سب مراد میں پوری ہو جائیں گی اور خدا تعالیٰ دینی اور دنیوی برکات تم پر نازل کرے گا۔مکہ والوں کے مظالم کا ازالہ ہو جائے گا۔تو خدا تعالی دوبارہ اپنی توجہ مسلمانوں کی طرف پھیرے گا اور وہ توجہ قیامت تک ممتد ہوگی۔مسلمان دنیا پر غالب آجائیں گے اور دنیا کی کوئی قوم ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔اس کے علاوہ ہم پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ہم قادیان کو آباد کریں۔فرض کرو اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک ہمیں قادیان پچپیس یا پچاس یا سو سال تک نہیں ملنا تو کیا تمہارا یہ فرض نہیں کہ تم اُسے آباد رکھو؟ لیکن تم نے اُسے آباد کرنے کی کیا کوشش کی ہے؟ تم نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ جو آدمی وہاں رہتے ہیں وہ کھائیں گے کہاں سے اور اُن کے اخراجات کس طرح پورے ہوں گے؟ چونکہ قادیان سے ہجرت کے وقت سب کام کرنے والے پاکستان آگئے تھے اور جو لوگ قادیان میں رہ گئے تھے وہ نا تجربہ کار تھے اس لیے شروع شروع میں وہ اس کی آبادی کی طرف زیادہ توجہ نہ دے سکے۔میں نے اس مقصد کے لیے اپنے ایک بچہ کو وہاں رکھا تھا لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔اگر ہندوستان میں بھی پانچ سات لاکھ کی جماعت ہو جاتی تو وہاں کی جماعت کا بجٹ کئی لاکھ کا ہو جاتا اور جوں جوں جماعت بڑھتی جاتی بجٹ بھی بڑھتا جاتا لیکن یہ ساری ذمہ داری قادیان والوں پر ہی نہیں کی آپ لوگوں پر بھی ایک حد تک یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اس لیے یہاں کے بجٹ میں بھی قادیان کا حصہ ہونا چاہیے۔اگر خدا تعالیٰ ہماری جماعت کی تعداد کو بڑھا دے اور اس کی آمد میں اس قدر زیادتی ہو جائے کہ جماعت کا بجٹ پچھپیں تھیں لاکھ ہو جائے تو چار پانچ لاکھ روپیہ کی رقم قادیان کے لیے آسانی کے سے نکل سکتی ہے بشرطیکہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات زیادہ ٹھیک ہو جائیں اور پاکستانی حکومت نانی اُدھر رہ جانے والے مسلمانوں کی مدد کی اجازت دے دے یا اس کے ایکھینچ کی حالت اچھی ہو جائے اور وہ ہندوستان روپیہ بھجوانے پر سے پابندی ہٹا دے۔اور اگر کسی وقت یہاں کے رہنے والوں کو مشکلات ہوں تو باہر کی جماعتوں یعنی امریکہ، افریقہ اور یورپین ممالک کی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ قادیان کو آباد رکھیں اور اس غرض کے لیے اپنے بجٹ کا کچھ حصہ قادیان کے لوگوں کی امداد کے لیے بھجوائیں کیونکہ وہ پاکستان سے باہر کے ہیں اور اُن پر پاکستان کا قانون عائد نہیں ہوتا۔بیشک اس کے