خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 261

261 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 مَنْ شَاء بَعُدَكَ فَلْيَمُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ 5 یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا تیرے مرنے کے بعد آج میری آنکھ اندھی ہوگئی ہے۔اب تیرے مرنے کے بعد کوئی شخص مرے مجھے اس کی موت کی پروا نہیں۔مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا۔اب تیری موت کے بعد زید مرے، بکر مرے یا کوئی اور مرے مجھے اس کی کوئی فکر نہیں۔پھر بھی ان کی محبت حضرت ابوبکر کی محبت سے زیادہ نہ تھی۔حضرت ابو بکر کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی انسان کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ان ابوبکر کوخلیل بناتا۔6 پھر انہوں نے اسلام کی خاطر اتنی عظیم الشان قربانیاں کی تھیں کہ ان کے مقابلہ میں دوسرے صحابہ کی قربانیاں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔ایک جنگ کے موقع پر جبکہ سخت تنگی کا زمانہ تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چندہ کے لیے اعلان کیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سمجھا آج میں چندہ میں سب سے بڑھ جاؤں گا۔میں نے اپنی دولت کے دو حصے کر دیے۔ایک حصہ اپنے گھر میں رکھا اور ایک حصہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور میں نے سمجھا کہ آج میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔لیکن میرے پہنچنے سے پہلے ہی حضرت ابو بکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ چکے تھے اور جو کچھ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا تھا اُس کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ابوبکر ! تم نے اپنا سب مال چندہ میں دے دیا؟ تم نے اپنے گھر میں کیا رکھا ہے؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا یارسول اللہ ! گھر میں خدا اور اس کے رسول کے سوا اور کچھ نہیں۔تب حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں شرمندہ ہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ بڑھا جو ہر میدان میں مجھ سے بازی لے جاتا ہے آج بھی بڑھ گیا ہے۔7 میں نے اپنی طرف سے بہت زیادہ قربانی کی تھی لیکن اس نے مجھ سے بھی زیادہ قربانی کی ہے۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی قربانی کرنے والے انسان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت ہوگی وہ اور کسی کو نہیں ہو سکتی۔مگر باوجود اس کے اس نے اس موقع پر ایسا صبر دکھایا کہ جن لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ قرار دیا تھا ان پر خوش ہونے کی بجائے کہ وہ آپ کے محبوب کو زندہ قرار دیتے تھے اس نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا زندہ رہنے والا صرف خدا ہی ہے جو شخص خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کو زندہ قرار دیتا ہے وہ یقیناً مشرک ہے اور میں مشرک نہیں ہوں۔