خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 260

$1958 260 خطبات محمود جلد نمبر 39 کے ہی ہیں کیونکہ آگے عبادت کا ذکر آتا ہے جس میں رکوع بھی شامل ہوتا ہے۔پس اس جگہ ارْكَعُوا سے یہی مُراد ہے کہ اے مومنو! تم توحید کامل اختیار کرو۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے سوا اور دوسری کسی قوم میں توحید کامل نہیں۔دوسرے مذاہب والے بالعموم اپنے ارباب کو اتنی عظمت دیتے ہیں کہ انہیں خدا کا قائمقام بنا دیتے ہیں۔اُن کے مذہبی پیشوا جو بھی فتویٰ دے دیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے باہر جانا نا جائز ہے۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو یہ کہتا ہے کہ اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَ لَوْ اَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ۔2 ایک مفتی تو الگ رہا اگر سارے مفتی مل کر بھی کسی بات کے متعلق فتوی دیں لیکن تمہارا دل اور دماغ گواہی دے رہا ہو کہ یہ فتویٰ غلط ہے اور خدا تعالیٰ کی شریعت کچھ اور کہتی ہے تو جو خدا کی بات ہوا سے مانو اُن کے فتووں کو نہ مانو۔غرض توحید کامل کے بغیر انسان کو کبھی حقیقی ایمان نصیب نہیں ہوتا۔یہی ایمان تھا جس کا نمونہ صحابہؓ نے دکھایا اور انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ اللہ تعالی سے بڑھ کر انہیں اور کوئی چیز عزیز نہیں۔احادیث سے پتا لگتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو صحابہ اس غم میں پاگلوں کی طرح ہو گئے۔حتی کہ حضرت عمر جیسے مومن نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ اگر کسی نے یہ بات کہی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اُس کی گردن اڑا دوں گا۔3 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسی علیہ السلام کی طرح احکام لینے آسمان پر گئے ہیں۔وہاں سے وہ واپس آئیں گے اور منافقوں کو ماریں گے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو آپ مسجد میں تشریف لائے اور منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا أَلَا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَلٌّ لَّا يَمُوتُ 4 اے لوگو! تم میں سے جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے وہ بھی نہیں مرے گا۔اب دیکھو باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا صحابہ کو شدید صدمہ تھا اتنا صدمہ کہ آپ کے ایک صحابی نے یہ شعر کہے کہ ه كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيَّ عَلَيَّ النَّاظِرُ