خطبات محمود (جلد 39) — Page 235
خطبات محمود جلد نمبر 39 235 $1958 جلسہ سالانہ پر آنے والے دوستوں کو ہدایات تو میں ربوہ میں دیا کرتا ہوں مگر اس دفعہ گرمی کی شدت کی وجہ سے میں نہیں کہہ سکتا کہ ہم کب ربوہ پہنچیں۔پہلے کئی دفعہ یہاں 69، 70 تک درجہ حرارت رہتا تھا مگر آج 86 سے اوپر تھا۔اور ابھی پتا نہیں کہ پونے چار بجے تک کتنا درجہ حرارت بڑھ جائے۔ہم 5 مئی کو مری گئے تھے اور اُس وقت یہاں درجہ حرارت 90 تھا مگر آج صبح کے وقت ہی 86 تک درجہ حرارت پہنچا ہوا تھا جس سے ڈر آتا ہے کہ کہیں آج 90 سے بھی ٹمپریچر بڑھ نہ جائے۔پس چونکہ گرمی زیادہ ہے میں نے مناسب سمجھا کہ یہیں خطبہ پڑھ دوں۔اخبار میں چھپ کر تمام جماعتوں کو پہنچ جائے گا۔پھر جو کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی وہی ہوگا۔اس دفعہ گرمی کی شدت اور صحت کی کمزوری مالی دیکھ کر خیال آیا کہ معلوم نہیں کتنی زندگی باقی ہے اس لیے جو فرض بھی ادا کیا جا سکے اس کو جلد سے جلدا دانی کردوں اور جماعتوں کو اُن کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلا دوں۔پس میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ جلسہ سالانہ پر زیادہ سے زیادہ آنے کی کوشش کریں۔اس سال گرمی بھی زیادہ پڑی ہے اور بارشیں بھی زیادہ ہوئی ہیں جس کی وجہ سے فصلیں بالکل ماری گئی ہیں۔مجھے اطلاع ملی ہے کہ اس سال چندوں میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔گو پچھلے سال جتنا چندہ تو آ چکا ہے مگر ہمیں زیادہ آمد کی ضرورت ہے کیونکہ اس سال سترہ لاکھ کا بجٹ بنایا گیا ہے اور پچھے سال بارہ انچ لاکھ کا بجٹ تھا۔پس پچھلے سال کا جو بجٹ تھا اُس کے برابر تو چندہ کی وصولی ہورہی ہے مگر اس سال جتنی آمد ہونی چاہیے تھی اتنی آمد نہیں ہو رہی۔اسی وجہ سے ہر صیغہ کے بجٹ میں تین فیصدی کی مزید کمی کی گئی ہے تا کہ آخر سال تک اخراجات پورے ہو سکیں۔گویا اس سال کے لیے صدر انجمن احمدیہ نے جو بجٹ تجویز کیا تھا اور جسے مجلس شوری کے موقع پر منظور کر لیا گیا تھا اُس میں سے بھی تین فیصدی کی کمی کر دی گئی ہے۔یہ کمی بھی اسی لیے کرنی پڑی کہ اس سال فصلیں بہت کچھ ماری گئی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوئی کی کہ اول تو دھوپ اور گرمی بہت پڑی ، دوسرے متواتر بارشیں ہوئیں اور انہوں نے اتنی تباہی مچائی کہ ابھی تک کراچی کی طرف سڑکیں ٹوٹی پڑی ہیں اور موٹر آ جا نہیں سکتی اور قریباً ایک مہینہ سے یہی حالت ہے۔اس وجہ سے جلسہ سالانہ پر آنے جانے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے دوستوں کو وقتیں تو پیش آئیں گی لیکن ان کو چاہیے کہ اس موقع کے لیے انہیں کچھ قرض لے کر بھی آنا پڑے تو وہ قرض لے کر آجائیں۔