خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 200

خطبات محمود جلد نمبر 39 نہیں ہوتی۔200 $1958 پس ہماری جماعت کو اس عظیم الشان کام کی تکمیل کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے سپرد کیا گیا ہے ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہیے۔اس وقت دنیا کی آبادی سوا دوا رب ہے لیکن ممکن ہے اس کام کی تکمیل تک یہ آبادی تین چار ارب ہو جائے اور ہمارا کام اور بھی بڑھ جائے۔بہر حال جماعت کی تعداد کو ترقی دینے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ ہماری نسبت مقابلہ کم ہوتی چلی جائے۔اگر ہم جلدی ہی دس کروڑ تک پہنچ جائیں تو پھر بھی دس ارب تک ہمارے ایک ایک آدمی کو سو سو کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔پس ہمیں بہت جلد ساری دنیا کو مسلمان بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔آخر جتنے لوگ اس وقت اسلام سے باہر ہیں یہ سب کے سب ہمارے اپنے بچے یا بھائی ہیں۔اگر وہ ہم سے عمر میں چھوٹے ہیں تو ہمارے بچے ہیں اور اگر برا بر ہیں تو ہمارے بھائی ہیں۔پس اُن کو نیکی کی تلقین کرنا اور انہیں اسلام سے روشناس کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے کیونکہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا تھا اور ہم نے یہ دعوی کیا ہے کہ ہم آپ کے کام کو پورا کریں گے۔پس جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا کے کونے کونے میں نہیں پہنچ جاتا اور ایک ایک شخص کو ہم اسلام میں داخل نہیں کر لیتے ہم اپنے فرض سے عہدہ برا نہیں ہو سکتے۔اس کے لیے ہمیں اپنی جان ، عزت ، آبروسب کچھ لگا دینی چاہیے۔لیکن اگر ہم ایسا کر لیں تب بھی یہ کام ایک نسل سے پورا نہیں ہو سکتا۔اسی لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ گان يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلوةِ وَالزَّكوة 6 وہ اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو بھی نماز اور زکوة کی تاکید کیا کرتے تھے تا ہمیشہ کے لیے خدائے واحد کی عبادت قائم رہے اور ہمیشہ کے لیے زکوۃ کا سلسلہ جاری رہے اور ایک نسل میں ہی یہ کام محدود ہو کر نہ رہ جائے۔اسی طرح ہر احمدی کو یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ میں خود بھی تبلیغ اسلام کروں گا اور اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو بھی تبلیغ اسلام کی تلقین کرتا چلا جاؤں گا تا کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے۔اور اگر قیامت تک اس سلسلہ کو جاری رکھا جائے تو صاف بات ہے کہ پھر دنیا میں مسلمان ہی مسلمان رہ جاتے ہیں۔(الفضل 10 ستمبر 1958ء) 1 : الانفال: 67