خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 199

$1958 199 خطبات محمود جلد نمبر 39 مردوں میں بھی نہیں ہوتا۔کل ہی ایک شخص کے متعلق جو سندھ میں میری زمینوں پر کام کرتا ہے ایک شخص نے اطلاع کی کہ 1953 ء کے فسادات میں اُس نے احمدیت سے توبہ کر لی تھی اور وہ سلسلہ کو گالیاں دینے لگ گیا تھا۔حالانکہ یہ شخص بھی ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا ہے اور وہ عورت بھی ضلع سیالکوٹ کی ہی تھی جو خطر ناک مخالفت کی پروانہ کرتے ہوئے ربوہ پہنچی اور اُس نے مجھے حالات سے اطلاع دی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اُس وقت کچھ دوست باہر سے آئے ہوئے تھے جن کو کار دے کر میں نے اُس کے گاؤں بھجوایا اور گاؤں والوں نے پانی وغیرہ دینا شروع کر دیا۔حافظ آباد میں بھی ایک احمدی کے گھر پر لوگ حملہ کرنے کے لیے جمع ہوئے تو ایک بارہ برس کی کے لڑکے نے اپنے باپ کی بندوق پکڑ لی اور ہوا میں فائر کر دیا۔اس پر وہ سارے کے سارے بھاگی گئے اور انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ تو بارہ سال کا لڑکا ہے جسے ہم مار بھی سکتے ہیں۔اس سے ڈرنے کے کیا معنے ہیں۔لیکن صحابہ کو دیکھو تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ مرتے جاتے تھے مگر ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے بلکہ جوں جوں مشکلات آتیں اُن کا اخلاص اور بھی ترقی کرتا چلا جاتا تھا۔اور یہی کیفیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے صحابہ میں بھی پائی جاتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ سالانہ ہوا اُس میں سات سو آدمی شامل ہوا تھا۔اب تو ربوہ کی آبادی بھی بارہ ہزار ہے مگر اُن سات سو افراد کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے کہ معلوم ہوتا ہے جس کام کے لیے خدا تعالیٰ نے ہمیں بھیجا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔اُس جلسہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے لیے باہر تشریف لے گئے تو ہجوم کی وجہ سے آپ کو بار بار ٹھوکر لگتی اور چھڑی آپ کے ہاتھ سے گر جاتی۔پھر آپ اُٹھاتے تو تھوڑی دیر کے بعد کسی اور کی ٹھوکر سے چھڑی گر جاتی۔اس ہجوم میں ایک شخص آگے بڑھا اور اُس نے چاہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب پہنچ جائے مگر دوسروں نے دھگا دے کر اُسے پیچھے ہٹا دیا۔اُسے دیکھ کر ایک پرانا احمدی بڑے جوش سے کہنے لگا تجھے دھکوں کی کوئی پروانہیں کرنی چاہیے تھی چاہے تیرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے پھر بھی تیرا کام یہی تھا کہ تو آگے بڑھتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مصافحہ کر کے آتا۔یہ مبارک وقت پھر کب نصیب ہونا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے لیے قربانی کرنا ایک بڑا انعام ہوتا ہے ڈرنے اور گھبرانے کی بات