خطبات محمود (جلد 39) — Page 198
198 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 جماعت پر بھی موسی کے زمانہ کی طرح ایک دور آنے والا ہے۔پس دشمن اگر کسی وقت اپنے حملہ سے خوش بھی ہو تو مومن کا ایمان پھر بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ان ابتلاؤں کی خدا تعالیٰ نے پہلے سے خبر دی ہوئی تھی۔1953ء میں جب فسادات ہوئے تو ایک گاؤں کا محاصرہ کر کے احمدیوں کا پانی بند کر دیا گیا۔اُس وقت ایک عورت نے بڑی ہمت دکھائی اور اس نے کہا کہ میں ربوہ جاتی ہوں اور وہاں جا کر یہ خبر پہنچاتی ہوں۔چنانچہ وہ ربوہ آئی اور اس نے ہمیں حالات سے اطلاع دی۔اتفاقاً اُن دنوں کچھ دوست باہر سے ربوہ آئے ہوئے تھے۔میں نے اُن کو کار میں اُس کے گاؤں بھجوایا اور وہ پانی کھول کر آئے۔اب دیکھو اس عورت کے اندر کتنا ایمان پایا جاتا تھا کہ جہاں مرد ڈر گئے وہاں وہ اکیلی عورت تمام خطرات میں سے گزرتے ہوئے ربوہ پہنچی اور اُس نے ہمیں حالات سے اطلاع دی۔تو بعض دفعہ یہ کمزور جنس بھی ایسا اعلیٰ نمونہ دکھاتی ہے کہ مردوں کو شرمانا پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک میراشن تھی جس کے لڑکے کو سل ہوگئی اور وہ جی علاج کے لیے اُسے قادیان لے آئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس لڑکے کو علاج کے لیے حضرت خلیفہ اول کے سپرد کر دیا۔وہ لڑکا عیسائی ہو چکا تھا جس کا اُس کی ماں کو بڑا صدمہ تھا۔وہ بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آتی اور کہتی کہ خدا نے آپ کو مسیح موعود بنایا ہے آپ میرے بیٹے کے سر سے جادو اُتار دیں اور اُسے مسلمان بنا ئیں۔یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے مگر مجھے اس کی زندگی کی اتنی خوشی نہیں۔میرا دل چاہتا ہے کہ یہ کلمہ پڑھ کر مرے۔وہ لڑکا بڑا پکا عیسائی تھا۔ایک رات جب اُس نے دیکھا کہ پہرہ کمزور ہے تو بیماری کے باوجود وہ اُٹھ بھاگا اور بٹالہ کی طرف چل پڑا جہاں عیسائیوں کا مشن تھا۔کچھ دیر کی کے بعد اُس کی ماں کی آنکھ کھلی اور اُس نے دیکھا کہ چار پائی خالی پڑی ہے تو وہ سمجھ گئی کہ میرا لڑکا بھاگ گیا ہے۔وہ بھی اُس کے پیچھے دوڑ پڑی اور دس میل پر جا کر اس نے اپنے بیٹے کو پکڑ لیا اور پھر وہ اُسے قادیان واپس لائی۔جب صبح ہوئی تو مجھے یاد ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں گر گئی اور روتے ہوئے کہنے لگی کہ خدا کے لیے آپ اسے ایک دفعہ کلمہ پڑھا دیں۔پھر بیشک وہ مر جائے مجھے اس کی پروا نہیں۔میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ وہ کلمہ پڑھ کر مرے۔آخر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور وہ عیسائیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا اور پھر چند دنوں کے بعد مر گیا تو عورتوں میں بھی بعض دفعہ اتنا اخلاص ہوتا ہے کہ