خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 197

197 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہے۔بلکہ بعض دفعہ تو ایک ایک ہزار گنادشمن سے بھی ان کا مقابلہ ہوا ہے اور وہ غالب آئے ہیں۔اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو ہماری جماعت اس وقت دس لاکھ ہے۔اگر ہمارا ایک آدمی دوسروں کے سو آدمیوں پر بھاری ہو تو موجودہ تعداد کے لحاظ سے دس کروڑ پر ہم دلائل کی جنگ میں فتحی حاصل کر سکتے ہیں حالانکہ پاکستان کی کل آبادی آٹھ کروڑ ہے۔اور اگر ایک اور ہزار کی نسبت ملحوظ رکھی جائے تو ہمارا دس لاکھ ایک ارب پر غالب آ سکتا ہے۔دنیا میں عام اصول یہ ہے کہ اگر کسی منظم جماعت کی تعداد ملک میں ایک فیصدی تک پہنچ جائے تو وہ دوسروں پر غالب آ جاتی ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں اگر ہم اس سے نصف بھی ہو جائیں اور ہمارے اندر سچا ایمان ہوتب بھی ہم دنیا پر اپنے دلائل کے زور سے غالب آ سکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا مقابلہ چونکہ تلوار سے نہیں بلکہ دلائل سے ہے اس لیے ہمارا کام نسبتاً مشکل ہے کیونکہ دل کا صاف کرنا گردن اُڑانے سے مشکل ہوتا ہے لیکن اگر خدا تعالیٰ چاہے اور کسی وقت ہم ایک کروڑ ہو جائیں تو پھر ہمارے ایک آدمی کا صرف دوسو سے مقابلہ رہ جائے گا حالانکہ صحابہ نے ہزار ہزار کا بھی مقابلہ کیا ہے۔پس ہماری جماعت کو ہمیشہ اپنا روحانی مقصد اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کے لیے صحیح کوشش اور جدو جہد کرتے رہنا چاہیے۔بیشک اس راستہ میں مشکلات بھی آتی ہیں لیکن مومن مشکلات سے گھبرا تا نہیں بلکہ اُن کو دیکھ کر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پہلے سے بھی زیادہ جھک جاتا ہے۔قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر جب سارا عرب متحد ہو کر اسلام پر حملہ آور ہوا تو منافقوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ خدا اور اس کے رسول نے مسلمانوں کی کامیابی کے بالکل جھوٹے وعدے کیے تھے 2 لیکن مومنوں نے جب ان لشکروں کو دیکھا تو اُن کے ایمان اور بھی بڑھ گئے اور انہوں نے کہا ان ابتلاؤں کی تو ہمیں خدا تعالیٰ نے پہلے سے خبریں دی ہوئی تھیں۔3 پس ہمارے لیے ان میں گھبراہٹ کی کونسی بات ہے؟ تو مومن مشکلات سے گھبراتا نہیں بلکہ مشکلات کو دیکھ کر اُس کا ایمان اور بھی بڑھ جاتا ہے۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے متعلق قرآن کریم میں یہ خبریں دی گئی تھیں کہ اس میں مومنوں پر بڑے بڑے ابتلا آئیں گے۔4 اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ يَأْتِي عَلَيْكَ زَمَنُ كَمَثَلِ زَمَنِ مُؤسى 5 یعنی جس طرح موسی کی قوم کو فرعون کے لشکر نے گھیر لیا تھا اُسی طرح تیری کی