خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 187

خطبات محمود جلد نمبر 39 187 $1958 اس پر امرتسر کے ڈپٹی کمشنر نے مقدمہ کی تمام مسل مسٹر ڈگلس کو بھجوا دی۔مسٹر ڈگلس پہلے اتنے متعصب ہوا کرتے تھے کہ جب وہ گورداسپور میں آئے تو انہوں نے آتے ہی کہا کہ میں نے سنا ہے قادیان میں ایک شخص نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور وہ ہمارے خدا کی ہتک کر رہا ہے، اُسے اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ مگر جب مقدمہ کی مسل اُن کے سامنے پیش ہوئی تو مسل خواں نے کہا کہ یہ وارنٹ کا نہیں بلکہ سمن کا کیس ہے۔راولپنڈی کے ایک دوست غلام حیدر صاحب تھے جو مسٹر ڈگلس کے ہیڈ کلرک تھے۔انہوں نے بھی اس کی تائید کی۔چنانچہ وارنٹ کی بجائے آپ کے نام سمن جاری کیا گیا اور آپ گورداسپور تشریف لے گئے۔جب آپ عدالت میں پہنچے تو مسٹر ڈگلس پر آپ کی شکل دیکھتے ہیں ہی کچھ ایسا اثر ہوا کہ وہی شخص جس نے یہ کہا تھا کہ ایسے آدمی کو ابھی تک گرفتار کر کے جیل خانہ میں کیوں نہیں بھیجا گیا جو ہمارے یسوع مسیح کی ہتک کرتا ہے، اُس نے نہایت اعزاز کے ساتھ آپ کو کرسی پیش کی اور کہا کہ آپ بیٹھے بیٹھے میری باتوں کا جواب دیں۔اس مقدمہ میں مولوی محمد حسین ماحب بٹالوی بھی عیسائیوں کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوئے تھے۔انہوں نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عدالت میں نہایت عزت کے ساتھ کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو انہیں آگ لگ گئی اور انہوں نے آگے بڑھ کر ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ مجھے بھی کرسی ملنی چاہیے۔میں گورنر کے پاس جاتا ہوں تو وہ بھی مجھے کرسی دیتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کہنے لگا کہ گھر ہو تو اگر ایک چوڑھا بھی ہم سے ملنے آئے تو ہم اُسے کرسی دیں گے مگر یہ عدالت کا کمرہ ہے، یہاں تمہیں کرسی نہیں مل سکتی۔مگر مولوی محمد حسین صاحب کی اس جواب سے تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے پھر اصرار کیا۔ڈپٹی کمشنر کو غصہ آ گیا اور وہ کہنے لگا ” بک بک مت کر ، پیچھے ہٹ اور جوتیوں میں کھڑا ہو جا۔مولوی محمد حسین صاحب کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک کرسی پڑی ہوئی تھی۔انہوں نے چاہا کہ اُس پر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جائیں تا کہ باہر کے لوگ یہ سمجھ لیں کہ اندر بھی انہیں کرسی ملی ہو گی مگر چپڑاسی دیکھ چکا تھا کہ اندر ڈپٹی کمشنر نے اُن سے کیا سلوک کیا ہے۔وہ دوڑا ہوا آیا اور کہنے لگا فوراً کرسی خالی کرو اور یہاں سے اُٹھ جاؤ۔وہ وہاں سے اٹھے تو صحن میں آگئے۔وہاں ایک چادر زمین پر بچھی ہوئی تھی۔یہ جاتے ہی اُس چادر پر بیٹھ گئے۔اتفاقاً وہ چادر ایک احمدی دوست کی تھی۔اُس نے انہیں اپنی چادر پر بیٹھے دیکھا تو کہنے لگا میری چادر پلید نہ کر، تو مولوی ہو کر عیسائیوں کی تائید میں گواہی دینے آیا ہے۔چنانچہ اُس چادر سے بھی انہیں