خطبات محمود (جلد 39) — Page 185
185 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 کی خبر سے بھی افسردہ اور غمناک ہو جاتا ہے۔دراصل بشرہ جلد کے اوپر کے حصہ کو کہتے ہیں اور بشارت ایسی خبر کو کہتے ہیں جس سے چہرہ کا رنگ بدل جائے۔پس بَشَّرَ کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی کہ انہیں ایسی خوشی کی خبر دے جس سے ان کے چہروں پر سرخی کی لہر دوڑ جائے اور یہ بھی کہ انہیں ایسی خبر دے جس سے ان کے چہرے زرد پڑ جائیں۔یہاں چونکہ خوشی کی خبر دی گئی ہے اس لیے یہاں بشارت کا لفظ خوشخبری کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنوں کو یہ خوشخبری پہنچا ہو دو کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل نازل ہوگا اور یہ ظاہر ہے کہ بہت بڑے فضل کے نازل ہونے کی خبر سے چہرہ زرد نہیں ہوتا بلکہ خوشی سے تمتما اٹھتا ہے۔پس اس آیت میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ مومن کبھی ذلیل نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دشمنوں پر غالب رہتا ہے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ فَاِنَّ حِزْبَ الله هم الغالبون : یعنی جو لوگ اعلان اللہ تعالیٰ کی جماعت میں شامل ہوتے ہیں وہ یقیناً غالب رہتے ہیں اور جس نے غالب رہنا ہو وہ دشمنوں سے ڈرے گا کیوں؟ 1953ء میں جب فسادات ہوئے تو سیفٹی ایکٹ کے ماتحت گورنر پنجاب نے مجھے نوٹس بھجوایا کہ آپ کی طرف سے یا آپ کے اخبار کی طرف سے احرار کے خلاف کوئی بات شائع نہیں ہوئی چاہیے ورنہ فساد بڑھ جائے گا۔یہ نوٹس ضلع جھنگ کا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس میرے پاس لے کر آیا۔میں نے یہ نوٹس تو لے لیا مگر میں نے ڈی۔ایس۔پی سے کہا کہ آپ اس وقت اکیلے مجھ سے ملنے آئے ہیں اور کوئی خطرہ محسوس کیے بغیر میرے پاس پہنچ گئے ہیں۔اسی لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ گورنمنٹ آپ کی پشت پر ہے۔پھر اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ گورنمنٹ کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے حکومت آپ کی مدد کرے گی تو کیا میں جو خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ ہوں مجھے یقین نہیں ہونا چاہیے کہ خدا میری مدد کرے گا۔بیشک میری گردن آپ کے گورنر کے ہاتھ میں ہے لیکن آپ کے گورنر کی گردن میرے خدا کے ہاتھ میں ہے۔آپ کے گورنر نے میرے ساتھ جو کچھ کرنا تھا وہ کر لیا۔اب میرا خدا اپنا ہاتھ دکھائے گا۔چنانچہ چند دنوں کے اندر اندر مرکزی حکومت کے حکم سے مسٹر چندریگر کو جو اُس وقت گورنر پنجاب تھے رُخصت کر دیا گیا اور ان کی جگہ میاں امین الدین صاحب گورنر پنجاب مقرر ہوئے اور میاں ممتاز صاحب دولتانہ کی جگہ ملک فیروز خاں صاحب نوں آ گئے۔