خطبات محمود (جلد 39) — Page 158
$1958 158 خطبات محمود جلد نمبر 39 وہ کہنے لگا میرے پہلو میں فلاں مخلص صحابی پڑا ہے اور اُسے بھی پیاس کی شدید تکلیف ہے۔میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میں پہلے پانی پی لوں اور وہ صحابی رہ جائیں۔اس لیے پہلے ان کے پاس پانی لے جاؤ۔وہ پانی لے کر اُن کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگے میرے پہلو میں حضرت فضل " پڑے ہوئے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی ہیں پہلے انہیں پانی پلاؤ۔جب تک وہ پانی نہ پی لیں میں پانی نہیں پی سکتا۔وہ سات زخمی صحابہ تھے جو میدانِ جنگ میں پیاس کی شدت اور زخموں کی تکلیف سے تڑپ رہے تھے مگر اُن میں سے ہر ایک نے یہی کہا کہ جب تک میرا ساتھی پانی نہ پی لے میں پانی نہیں پی سکتا۔جب وہ آخری صحابی کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکے تھے اور جب وہ لوٹ کر دوسروں کے کی پاس آیا تو وہ بھی فوت ہو چکے تھے۔5 اب دیکھو یہ لوگ بیشک مارے گئے لیکن وہ اپنی موت سے مسلمانوں کو سینکڑوں سال تک حکومت پر قائم کر گئے۔ایک ایسی جنگ میں جس میں دشمن کا ساٹھ ہزار لشکر سامنے تھا پندرہ ہیں مسلمانوں کا مارا جانا کوئی بڑی بات نہیں لیکن انہوں نے مرکر چار سو سال تک مسلمانوں کی حکومت قائم کر دی اور آخر حضرت عباس کے خاندان میں بھی حکومت آئی اور عباسی حکومت بڑی شان سے قائم ہوئی۔مگر بعد میں جب مسلمان ناچ گانوں میں مشغول ہو گئے ، جب انہوں نے رنگ رلیاں منانی شروع کر دیں، جب وہ شرابیں پینے لگ گئے ، جب وہ عیاشی میں مبتلا ہو گئے اور انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اسحاق موسوی بڑا اچھا گانے والا ہے، فلاں کنچنی خوب ناچتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کی تباہی کے لیے ہلاکو خان کو بغداد پر مسلط کر دیا اور اُس نے ایک دن میں اٹھارہ لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا اور شاہی خاندان کی کوئی ایک عورت بھی ایسی نہ چھوڑی جس کے ساتھ بدکاری نہ کی گئی ہو۔اب گجا تو اُن کی یہ حالت تھی کہ روم جیسے بادشاہ کے لشکر کو جو ساٹھ ہزار کی تعداد میں تھا مسلمانوں کے صرف ساٹھ آدمیوں نے شکست دے دی اور گجا یہ حالت ہوئی کہ ہلاکو خان چند ہزار کا لشکر لے کر آیا اور لاکھوں مسلمان اُس کے آگے آگے بھاگتے پھرے اور اس نے اٹھارہ لاکھ آدمیوں کو قتل کر دیا۔غرض جب تک اللہ تعالیٰ مددکرتا ہے فتوحات حاصل ہوتی جاتی ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی مدد کم ہو جاتی ہے تو فتوحات بھی کم ہو جاتی ہیں۔ہماری جماعت کے دوستوں کو بھی چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے رہا کریں اور پاکستان کے سپاہیوں کو بھی چاہیے کہ وہ دعاؤں اور ذکر الہی سے