خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 134

خطبات محمود جلد نمبر 39 134 $1958 دوسرے مذاہب پر کتنی فضیلت حاصل ہے۔چنانچہ دیکھ لومکہ کے لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے مخالف تھے مگر باوجود اس کے کہ انہوں نے مخالفت کی تھی پکتیا نہیں کی تھی ، آنا فانا اُن کی آنکھیں کھل گئیں اور وہی لوگ جو آپ کے خون کے پیاسے تھے آپ پر جان دینے کے لیے تیار ہو گئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنین پر حملہ کیا تو ایک شخص جو اُس خاندان میں سے تھا جس کے پاس خانہ کعبہ کی کنجیاں تھیں اور جس کا بھائی کسی جنگ میں مارا گیا تھا اُسے خیال آیا کہ اگر میں بھی کی مسلمانوں کی طرف سے اس جنگ میں شامل ہو جاؤں تو شاید مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے۔چنانچہ وہ اس جنگ میں شامل ہو گیا۔چونکہ خدا نے اُس کو جھوٹا کرنا تھا اور اُسے حملہ کا موقع دے کر بتانا تھا کہ میں خود اپنے رسول کا محافظ ہوں اس لیے جب دشمن کے تیراندازوں نے وادی کے دونوں طرف سے تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی اور مسلمانوں کی سواریاں نی پدک کر بھاگیں تو اُس نے سمجھا کہ حملہ کے لیے اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں ہوسکتا۔یہ ایسا نازک کی موقع تھا کہ حضرت ابو بکر آگے بڑھے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! دشمن پہاڑی پر بیٹھا دونوں طرف سے پتھر برسا رہا ہے، آپ اس کی وقت آگے نہ بڑھیے بلکہ اُس وقت تک انتظار فرمائیے جب تک کہ سارے مسلمان پھر جمع نہ ہو جائیں کی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے جوش سے فرمایا کہ ابوبکر ! میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو اور پھر آپ اپنی سواری کو ایڑ لگاتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے اور آپ نے فرمایا أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ 11 یعنی میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں۔مجھے خدا نے خبر دی ہوئی ہے کہ دشمن تجھے ہلاک نہیں کر سکتا۔اس لیے دشمن خواہ ہزاروں تیر برسا رہا ہے اور میرے ساتھی بھی مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں (یہاں تک کہ ایک وقت میں بارہ اور دوسرے وقت میں صرف سات صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ گئے تھے ) پھر بھی میں مارا نہیں جاسکتا۔لیکن چونکہ یہ نمونہ ایسا تھا جس سے شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ شاید آپ میں خدائی طاقتیں آگئی ہوں اس لیے ساتھ ہی آپ نے فرمایا کہ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ تم میری اس جرات کو دیکھ کر کہ میں دشمن کے تیر اندازوں کی بوچھاڑ میں اس کی طرف بڑھتا چلا جاتا