خطبات محمود (جلد 39) — Page 130
خطبات محمود جلد نمبر 39 130 $1958 مجازی رنگ میں پیدا ہو جاتی ہیں مگر اس کے لیے کسی لیے مجاہدہ کی ضرورت نہیں۔اگر کسی شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے اور وہ اُس کے حضور دُعا کرے تو وہ فرماتا ہے اُجیب دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ 6 میں اس کی دُعا کو ضرور قبول کروں گا اور اسے اپنے قرب میں جگہ دوں گا۔اب گجا یہ طریق کہ وہ بانس کے درخت کے نیچے ساٹھ سال بیٹھا رہا یہاں تک کہ اُس کے نیچے سے ایک درخت نکلا جو اُس کے سر سے پار ہو گیا اور گجا یہ آسان طریق کہ اللہ تعالیٰ سے دُعا کی اور وہ کی جھٹ مل گیا۔حدیثوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی اس محبت کی لطیف تشریح کی گئی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک جنگ میں بہت سے لوگ مارے گئے اور جو باقی بچے وہ ادھر اُدھر بھاگ گئے۔ایک عورت بھی کی بھاگی اور وہ ڈر کے مارے اپنے بچہ کو بھی چھوڑ گئی۔جب جنگ ختم ہوئی تو وہ میدانِ جنگ میں واپسی آئی اور اپنے بچہ کو تلاش کرنے لگی۔وہ ایک ایک بچہ کو دیکھتی ، اُسے اٹھاتی اور پھر رکھ دیتی۔یہاں تک کہ اُسے اپنا بچہ مل گیا اور وہ اُسے اپنے سینہ سے لگا کر بڑے اطمینان سے ایک پتھر پر جا بیٹھی اور اُسے پیار کرنے لگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کیا تم اس عورت کو دیکھ رہے ہو؟؟ انہوں نے کہا ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا اس عورت کو اپنے بچہ کے گم ہو جانے کی وجہ سے کتنا اضطراب تھا مگر جب اسے اپنا بچپل گیا تو پھر اسے کتنی تسلی ہوگئی اور کس اطمینان سے یہ علیحدہ جا کر بیٹھی گئی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے دل میں اپنے گمراہ بندے کو دیکھ کر شدید تڑپ پیدا ہوتی ہے اور جب وہ اُس کی طرف واپس آتا ہے تو اس عورت سے بھی زیادہ اُس کو خوشی ہوتی ہے۔7 گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تصدیق کر دی کہ صرف بندے کے دل میں ہی خدا تعالیٰ کی محبت پیدا نہیں ہوتی بلکہ خود بھی اپنے بندے کی محبت میں بے تاب ہوتا ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ الفت کا تب مزہ ہے کہ دونوں ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی بدھ نے کہا کہ بندے کے اندر خدا تعالیٰ سے ملنے کی ایک آگ ہونی چاہیے لیکن اسلام کہتا ہے کہ خدا میں بھی ایسی آگ موجود ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بندے اُس کے پاس آجائیں اور اُس کا غرب حاصل کریں۔گویا ایک نے اتصال کی اُمید تو دلائی ہے مگر جو راستہ بتایا ہے وہ اتنا کٹھن ہے کہ