خطبات محمود (جلد 39) — Page 104
104 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہیں اور یہ مسلمان تو ایسے ہیں کہ اگر آپ فرمائیں کہ کھانا چھوڑ دو تو وہ کھانا بھی چھوڑ دیں۔ابوسفیان پر اس بات کا بہت اثر ہوا اور اُس نے کہا میں نے کسرای کا دربار بھی دیکھا ہے اور قیصر کا دربار بھی دیکھائی ہے لیکن اُن کی قوموں کو بھی میں نے ان کا ایسا فدائی نہیں دیکھا جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت اس کی فدائی ہے کہ آپ نیچے جھکے تو سب لوگ جھک گئے ،سجدہ میں گرے تو سب لوگ سجدہ میں چلے گئے ، تشہد کے لیے بیٹھے تو سب لوگ تشہد میں بیٹھ گئے۔یہ بے نظیر اطاعت ہے جو میں نے کہیں اور نہیں دیکھی۔8 جب نماز ختم ہو چکی تو حضرت عباس ابوسفیان کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کا کی رسول تسلیم کر لو؟ ابوسفیان نے کچھ تردد کا اظہار کیا لیکن پھر کچھ خوف کی وجہ سے اور کچھ حضرت عباس کے زور دینے کی وجہ سے اس نے بیعت کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔9 پھر اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ تو بڑے مہربان ہیں، مکہ والے آپ کے رشتہ دار ہیں، کوئی اُن کے بچاؤ کی صورت ہو سکتی ہے یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہر شخص جو اپنے گھر کے دروازے بند کر لے گا اُسے امن دیا جائے گا۔حضرت عباس نے کہا یا رسول اللہ ! ابوسفیان کی عزت کا بھی کچھ سامان کر دیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا! جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا اُسے بھی امن دیا جائے گا۔ابوسفیان نے کہا یا رسول اللہ ! میرا گھر کتنا بڑا ہے؟ اُس میں تو سب لوگ نہیں آ سکتے۔بیشک جو لوگ اندر آگئے وہ تو امن میں آجائیں گے مگر باقی لوگوں کا کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو شخص خانہ کعبہ میں گھس جائے گا اُسے بھی امن دیا جائے گا۔ابوسفیان نے کہا یا رسول اللہ ! خانہ کعبہ بھی سارے مکہ والوں کو اپنے اندر نہیں سما سکتا اور نہ ہی ہر شخص اعلان سن سکتا ہے۔کوئی ایسی صورت پیدا کی جائے جو ہر شخص کو نظر آ جائے۔آپ نے فرمایا اچھا کچھ کپڑا لاؤ۔چنانچہ کپڑا لایا گیا اور آپ نے اُس کا ایک جھنڈا بنایا اور وہ جھنڈا ابورویحہ کے ہاتھ میں دیا جن کو آپ نے حضرت بلال کا بھائی بنایا ہواتھا اور فرمایا جو شخص اس جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا اُسے بھی پناہ دی جائے گی۔10 اس حکم میں کیا ہی لطیف حکمت تھی۔مکہ والے حضرت بلال کے پیروں میں رستہ ڈال کر انہیں تپتی ریت پر گھسیٹا کرتے تھے۔انہیں تپتی ریت پر لٹا کر اُن کے سینہ پر بڑے بڑے بھاری جوتوں