خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 68

1958ء 68 خطبات محمود جلد نمبر 39 اپنا کھانا قرار دے دیتا ہے۔ جیسے کہ بائیبل میں بھی آتا ہے اور حدیثوں میں بھی کہ قیامت کے دن جب لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ کہے گا میں بیمار تھا تم نے میری عیادت کیوں نہیں کی؟ میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا کیوں نہیں پہنایا ؟ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کیوں نہیں کھلایا ؟ لوگ کہیں گے اے ہمارے رب ! تو بڑی شان والا ہے تو کب بھوکا تھا جو ہم نے تجھے کھانا نہیں کھلایا ؟ تو کب ننگا تھا کہ ہم نے تجھے کپڑا نہیں پہنایا ؟ تو کب بیمار تھا کہ ہم تیری عیادت کو نہیں آئے ؟ تو خدا تعالیٰ جواب دے گا کہ جب میرا غریب سے غریب بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ بھوکا تھا اور اُسے تم نے کھانا نہیں کھلایا تو تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ اور جب میرا غریب سے غریب بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ ننگا تھا اور تم نے اسے کپڑا نہیں پہنایا تو تم سمجھو کہ میں ہی ننگا تھا جسے تم نے کپڑا نہیں پہنایا۔ اور جب میرا غریب سے غریب بندہ بیمار ہوا اور تم نے اس کی عیادت نہیں کی تو تم نے میری عیادت نہیں کی 8 گویا خدا تعالی بندہ کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ یہی چیز رمضان میں ہوتی ہے۔ اس میں جو کچھ کھایا جاتا ہے چاہے غریب کھائے یا امیر کھائے وہ ایک رنگ میں خدا تعالیٰ ہی کھاتا ہے کیونکہ بندہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہی کھاتا ہے۔ پس ہمارا کھانا بھی خدا تعالیٰ کا ہی کھانا ہوتا ہے۔ چاہے وہ معمولی کھانا ہو یا اچھا۔ پھر عید کے دن بھی جو ہم کھاتے ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ ہی کا کھانا ہوتا ہے کیونکہ عید بھی ہم اس کے حکم سے مناتے ہیں۔ خدا نے ہی حکم دیا ہے اور ہم عید منانے لگ گئے ہیں ۔ پس اگر ہمیں عید کے دن کھانا ملتا ہے تو در حقیقت وہ بھی خدا تعالیٰ ہی کے گھر سے آتا ہے خدا تعالیٰ کھا تا نہیں مگر ہم کھاتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم روزہ میں فاقہ کرتے ہیں تو وہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ نے فاقہ کر لیا کیونکہ رمضان اور عید میں ہم خدا تعالیٰ کے قائم مقام بن جاتے ہیں۔ ہمارا بھوکا رہنا خدا تعالیٰ کا بھوکا رہنا ہوتا ہے اور عید کے دن ہمارا کھانا خدا تعالیٰ کا کھانا ہوتا ہے۔ گویا ان دنوں میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنا جبہ ہمیں پہنا دیتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ کا کوئی بندہ روزہ رکھتا ہے تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ میں ہی ہوں جو روزہ رکھ رہا ہوں کیونکہ میرے بندے نے جو کچھ کیا ہے میرے حکم سے کیا ہے۔ پھر ہم عید کے دن کھاتے ہیں تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میرا بندہ نہیں کھا رہا بلکہ میں کھا رہا ہوں کیونکہ وہ کھا رہا ہے تو میرے حکم سے کھا رہا ہے اور اُس کے پیٹ میں نہیں جا رہا بلکہ میرے پیٹ میں جا رہا ہے۔ اس طرح ہمارے جتنے بھی اعمال ہیں وہ نیکی