خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 69

69 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 بن جاتے ہیں اور و الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ کے ماتحت آ جاتے ہیں۔بندہ کوئی بھی حرکت کی کرے وہ اُس کے نام نیکی بن کر لکھی جاتی ہے۔یہی خدا تعالیٰ کی سنت ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی یہ سنت نہ ہوتی اور انسان اپنے اعمال کی وجہ سے بخشا جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیوں فرماتے کہ اے الی عائشہ! میں بھی اپنے اعمال سے نہیں بخشا جاؤں گا بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بخشا جاؤں گا اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی بخشے جائیں گے تو ہم کون ہیں جو کہہ سکیں کہ ہم اپنے اعمال سے بخشے جائیں گے۔ہم یقیناً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اس کے فضل کی کے محتاج ہیں۔ہم پر تو اور بھی خدا تعالیٰ کا فضل ہوگا تو ہم بخشے جائیں گے ورنہ ہمارے بخشے جانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔صرف یہی خیال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان کردہ اپنی صفات کو سامنے لا کر ہمیں بخش دے تو یہ اُس کا احسان ہوگا۔اور اگر نہ بخشے تو ہمیں اُس پر کوئی اعتراض نہیں وہ تی ہمیں جو بھی سزادے وہ اس میں حق پر ہے۔اور ہمیں جو بھی سزا ملے ہم اس کے مستحق ہیں۔اور وہ جو احسان کی ہم پر کرے وہ بہر حال اُس کا احسان ہے ہمارے کسی عمل کا نتیجہ نہیں“۔1 : النحل : 129 (الفضل 12 اپریل 1958ء) 2 : بخاری کتاب التفسير - تفسير سورة الفتح - باب قوله إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مبينا بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل 4 ترندی ابواب المناقب باب مناقب ابى بكر الصديق 5 : بخاری کتاب الایمان باب سؤالُ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ الله عَنِ الْإِيْمَانِ 6 : آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 596 7 : تذکره صفحه 781 طبع چہارم 8 : مسلم كتاب البر والصلة باب فَضْلُ عِيَادَة المريض و بخارى كتاب الرِّقَاقِ بابُ الْقَصْدِ وَ الْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَل