خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 52

خطبات محمود جلد نمبر 39 52 $1958 سلطان ٹیپو کے متعلق تاریخوں میں لکھا ہے کہ جب وہ آخری دفعہ انگریزوں سے لڑا اور لڑتے لڑتے قلعہ کی فصیل پر چڑھ گیا اور اُسے گولی لگی تو وہ خندق میں اندر کی طرف گر گیا۔اُس وقت اُس کے چند جانباز سپاہی انگریزوں سے لڑتے لڑتے مارے گئے اور اُس پر گر گئے۔دوسری طرف سے انگریزی فوج اندر داخل ہوگئی اور اُس نے حکم دیا کہ ٹیپو کی لاش تلاش کی جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کر دیئے کہ باہر تو جانباز سپاہی دشمن سے لڑتے رہے اور محل کے اندر عورتوں نے انگریزوں کا مقابلہ شروع کر دیا۔یہاں تک کہ جب انگریزی فوج محل کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا محل کے اندردیکھو شاید وہ زخمی ہو کر اندر نہ پڑا ہو لیکن جب انہوں نے محل کے اندر جھانکا تو سارا صحن عورتوں کی لاشوں سے بھرا ہوا تھا۔تب انہوں نے کہا تی واقع میں یہ بہت بڑا شخص تھا کہ اس کے لیے ہزاروں عورتوں نے قربانی کر کے اپنی جانیں دے دیں۔اس کی خیال سے کہ شاید ٹیپو زخمی ہو کر اندر آئے تو ہم اُس کی مدد کر سکیں شہر کی عورتیں محل کے اندر جمع ہوگئی تھیں اور جب انگریز محل میں داخل ہوئے تو وہ ساری کی ساری ان سے لڑتی ہوئی ماری گئیں۔پھر انگریزوں نے اپنے غصہ کو اس طرح نکالا کہ اپنے گنوں کا نام انہوں نے ٹیپو رکھنا شروع کر دیا۔یہ نام کسی زمانہ میں اس قدر عام تھا کہ ہم جب بچے تھے تو سمجھتے تھے کہ شاید ٹیپو کے معنے ہی گتے کے ہوتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک گتا ہمارے دروازہ پر آیا۔میں وہاں کھڑا تھا۔اندر کمرہ میں حضرت صاحب تھے۔میں نے اُس گتے کو اشارہ کیا اور کہا ٹیپو، ٹیپو ٹیپو ! حضرت صاحب بڑے غصہ سے باہر نکلے اور فرمایا تمہیں شرم نہیں آتی کہ انگریزوں نے تو دشمنی کی وجہ سے اپنے گنوں کا نام ایک صادق مسلمان کے نام پر ٹیپو رکھ دیا ہے اور تم ان کی نقل کر کے گتے کو ٹیپو کہتے ہو! خبردار! آئندہ ان ایسی حرکت نہ کرنا۔میری عمر اس وقت شاید آٹھ نو سال کی تھی۔وہ پہلا دن تھا جب سے میرے دل کے اندر سلطان ٹیپو کی محبت قائم ہوگئی اور میں نے سمجھا کہ سلطان ٹیپو کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔خدا تعالیٰ نے اُس کے نام کو اتنی برکت دی کہ آخری زمانہ کا مامور بھی اُس کی قدر کرتا تھا اور اس کے لیے غیرت کی رکھتا تھا۔میں نے یہ ذکر اس لیے کیا ہے کہ کام کی زندگی ہی قابلِ ذکر ہوتی ہے۔جب ٹیپو سلطان گولی کھا کر فصیل سے نیچے گرا تو اُس کے دو جانثار سپاہی اُس کے پاس دوڑے ہوئے آئے اور انہوں نے کہا حضور ! انگریزی فوج محل کی طرف آ رہی ہے اور آپ شدید طور پر زخمی ہو چکے ہیں آپ ہمارے ساتھ آئیں تا کہ ہم کسی طرح آپ کو قلعہ سے نکال دیں۔اس پر