خطبات محمود (جلد 39) — Page 35
1958ء 35 خطبات محمود جلد نمبر 39 وفات کے وقت جماعت کا سارا بجٹ تیس پینتیس ہزار کا تھا مگر اب صرف صدرانجمن احمد یہ کا ہی پچھلے سال تیرہ لاکھ کا بجٹ تھا اور اگر اس کے ساتھ تحریک جدید کو بھی شامل کر لیا جائے تو ہمارا بجٹ بچیں چھبیس لاکھ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کو دیکھ کر مخالف بھی متاثر ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ جماعت 66 ے بھی بڑھیں پہلے سے ترقی کر رہی ہے اور جب وقف جدید مضبوط ہو گیا جس کی وجہ سے لازماً چندے بھی بہ گے اور آدمی بھی بڑھیں گے تو ممکن ہے اگلے سال تینوں انجمنوں کا بجٹ چالیس پچاس لاکھ تک پہنچ جائے ۔ پس ان قربانیوں کی طرف جماعت کے ہر فرد کو توجہ کرنی چاہیے اور ہر آدمی کو یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد جلدی آئے ۔ بیشک جہاں تک اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا سوال ہے ہمیں یقین ہے کہ اُس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوگی اور اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے گا۔ لیکن اگر اس مدد کے آنے میں کچھ دیر ہو جائے تو مومن کا قلب اسے برداشت نہیں کر سکتا ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب مومن کہہ اٹھتے ہیں کہ مَتى نَصْرُ اللهِ 7 یعنی انتظار کرتے کرتے ہماری آنکھیں تھک گئیں ۔ اب اللہ کی مدد کب آئے گی؟ فرماتا ہے الا ان نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ 8 اللہ کی نصرت آنے ہی والی ہے۔ گھبراؤ نہیں۔ تم گھبرا جاتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اور نامعلوم اس کی مدد کب آئے گی حالانکہ وہ تمہارے بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ ان آیتوں کے نزول کے ایک دو سال بعد ہی مکہ فتح ہو گیا اور سارے عرب پر اسلام غالب آ گیا۔ اب بھی ایسا ہی وقت ہے کہ ہر احمدی کے دل سے یہ آواز اُٹھنی چاہیے کہ مَتى نَصْرُ اللہ اے خدا! تیری مدد کب آئے گی؟ ہم نے تیرے دین کی ترقی کے خواب اُس وقت دیکھنے شروع کیسے تھے جب یہ صدی شروع ہوئی تھی اور اب تو یہ صدی بھی ختم ہونے والی ہے مگر ابھی تک ہماری امیدیں بر نہیں آئیں اور کفر دنیا میں قائم ہے۔ اے خدا ! تو اپنی مدد بھیج تا کہ ہم اپنی زندگیوں میں ہی وہ دن دیکھ لیں کہ اسلام دنیا پر غالب آجائے اور عیسائی اور ہندو اور دوسرے تمام غیر مذاہب کے پیرو مغلوب ہو جائیں۔ اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں مسجدیں بن جائیں اور اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ کی آوازوں سے سارا یورپ اور امریکہ گونج اُٹھے ۔ اگر آپ لوگوں کے دلوں سے اس طرح آواز اُٹھے تو آپ کو یقین رکھنا چاہیے کہ آپ کے دل میں ایمان کی چنگاری پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن اگر یہ آواز نہ اُٹھے تو آپ سمجھ لیں کہ آپ لوگوں نے اپنے متعلق بلا وجہ نیک ظنی کی ۔ آپ سمجھتے رہے کہ ہم مومن