خطبات محمود (جلد 39) — Page 30
1958ء 30 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہوئی اور پھر فالج کا حملہ ہو گیا ۔ پس انہوں نے کہا کہ آپ کو فالج کا دوبارہ دورہ نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ کو بیہوشی نہیں ہوئی اور فالج کے حملہ میں زیادتی طبی اصول کے خلاف ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ کو ضعف ہو گیا ہو یا اعصابی کمزوری کی وجہ سے کوئی شکایت پیدا ہوئی ہو مگر یہ کہ فالج کا حملہ آپ ہی آپ بڑھتا چلا جائے یہ طبی اصول کے خلاف ہے اور دوبارہ حملہ کے لیے پہلے بیہوشی ضروری ہو بہر حال اگر ان کی یہ رائے درست ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ ایک غیر معمولی سال گزرا ہے جس میں بڑی سخت سردی آئی ۔ پچھلے سال جب ہم جابہ سے چلے ہیں تو وہاں بہت سردی تھی۔ ربوہ میں آئے تو وہاں بھی سردی تھی جلسہ کے قریب کچھ سردی کم ہوئی تو بدن میں طاقت آنی شروع ہوگئی۔ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے قادیان میں بھی 22 ، 23 دسمبر کو شاید لوگوں کے اژدہام کی وجہ سے گرمی سی آجاتی تھی اور ربوہ تو یوں بھی گرم مقام ہے۔ بہر حال اس گرمی کا فائدہ ہوا اور مجھے تقریروں کی توفیق مل گئی۔ آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا میں اللہ فرماتا ہے کہ دنیا میں مختلف انبیاء گزرے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے اپنے وقت میں ہدایتیں بخشیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کا نام پھیلانے اور اس کے دین کی خدمت کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کی ۔1 اس کے بعد اللہ تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اولیا الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهَدهُمُ اقْتَدِهُ 2 یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہدایت دی۔ پس اے محمد رسول اللہ ! جس طرز پر یہ لوگ چلے ہیں اُسی طرز پر تجھے اور تیرے ساتھیوں کو بھی چلنا چاہیے۔ ۔ اب یہ صاف بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو نبی گزرے ہیں یا جن کا یہاں ذکر آتا ہے جن میں حضرت ابراہیم کا نام بھی آیا ہے، حضرت اسحق کا نام بھی آیا ہے، حضرت یعقوب کا بھی نام آیا ہے ، حضرت داؤڈ کا بھی نام آیا ہے، حضرت سلیمان کا بھی نام آیا ہے، حضرت ایوب کا بھی نام آیا ہے ، حضرت یوسف کا بھی نام آیا ہے، حضرت موسی کا بھی نام آیا ہے، حضرت ہارون کا بھی نام آیا ہے، اسی طرح زکریا ، کئی عیسی ، الیاس ، اسماعیل ، یسعیاہ ، یونس اور لوط کا بھی نام آیا ہے۔ ان تمام کی زندگیوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں لگا دی تھی اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہی حکم دیا گیا کہ فَبِهَا لَهُمُ اقْتَدِه تو بھی ان نبیوں کے طریق پر چل ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شروع دعوی نبوت