خطبات محمود (جلد 39) — Page 327
1959ء 327 خطبات محمود جلد نمبر 39 کرتا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ حسن سلوک کرے گا اور محبت سے پیش آئے گا۔ پھر اُس کے رشتہ داروں سے عقد ہوتا ہے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ کئی احمدی اس معاملے میں پورے نہیں اُترتے۔ نکاح تو وہ کر لیتے ہیں مگر بعد میں بیویوں سے اُن کا سلوک اچھا نہیں ہوتا۔ بعض عورتیں میرے پاس آتی ہیں اور کہتی ہیں ہمارے خاوند ہم سے حُسنِ سلوک نہیں کرتے اور اگر ہم ضلع کرانا چاہتی ہیں تو وہ ہمیں چھوڑتے بھی نہیں ۔ حالانکہ اگر کوئی شخص واقع میں اپنے عہد کو پورا نہیں کرتا تو اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دے۔ پھر بعض خاوند ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں اتنے ہزار روپے دیئے جائیں تو ہم چھوڑ دیں گے ورنہ نہیں ، یہ سب بے ایمانیاں ہیں اور نفس کی خرابی کی علامتیں ہیں۔ مومن کا فرض ہے کہ اگر اُس کی عورت ذرا بھی انقباض ظاہر کرے تو وہ اُسے فوراً چھوڑ دے۔ احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ آتا ہے کہ آپ نے ایک عورت سے شادی کی ۔ جب آپ اُس کے پاس گئے تو اُس نے کہا اَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ - رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے مجھ سے بڑی طاقت کی پناہ مانگی ہے اس لیے تمہیں میری طرف سے طلاق ہے۔ 2 بعد میں وہ عورت شکایت کرتی رہی کہ مجھے دھوکا دیا گیا ہے، مجھے کسی عورت نے سکھا دیا تھا کہ تو اس طرح کہیو ، اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل تیری طرف خاص طور پر مائل ہو جائے گا۔ لیکن بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اُس نے اَعُوذُ بِاللهِ کہا اور آپ نے اُسے فوراً طلاق دے دی۔ تو مومن کا یہ کام ہے کہ اگر اُس کی عورت اُس کو نا پسند کرتی ہو تو فوراً اُسے چھوڑنے پر تیار ہو جائے ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ توحید کے بھی خلاف کرتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اُس عورت کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ توحید کامل یہ کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا ہمارا کوئی گزارہ نہیں ۔ اگر ہم کسی مرد یا عورت کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ اُس کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں تو ہم مشرک ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور یقین سے دور چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح عقود میں بیوی کے ماں باپ اور عزیزوں اور اسی طرح خاوند کے ماں باپ اور عزیزوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا عہد بھی شامل ہے لیکن کئی مرد ہیں جو شادیاں تو کر لیتے ہیں لیکن اپنی ساس اور خسر کے ساتھ حُسنِ سلوک نہیں کرتے۔ بلکہ ہمارے ملک میں تو سسر کو گالی سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ جب کسی کو بُرا بھلا کہنا ہو تو کہتے ہیں سہورا ہووے۔ حالانکہ قرآن کریم سے پتا لگتا ہے کہ