خطبات محمود (جلد 39) — Page 320
خطبات محمود جلد نمبر 39 320 $1959 جاتی تھیں۔میں نے دیکھا کہ پولیس والوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا ہوا ہے اور آپ کے سامنے اوپلوں کا ڈھیر لگا دیا گیا ہے۔پولیس والے آتے ہیں اور اوپلوں کو آگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔میں یہ دیکھ کر خواب میں بہت گھبرایا کہ اب کیا ہو گا۔اتنے میں کسی شخص نے اشارہ کیا کہ اوپر دیکھو۔میں نے اوپر دیکھا تو دہلیز کے اوپر لکھا ہوا تھا کہ جو خدا کے بندے ہوتے ہیں آگ اُن پر کوئی اثر نہیں کر سکتی۔پھر میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زور سے اپنا ہاتھ مارا اور تمام او پلے گر گئے اور آپ اُس میں سے باہر نکل آئے۔66 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی ایک الہام ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔6 آج جب میں نے حضرت خلیفہ اول کی کتاب ”نورالدین منگوائی اور اُس میں سے دھرمیال کے اس اعتراض کا جواب سنا اور حضرت خلیفہ اول کے الفاظ دیکھے کہ تم ہمارے امام کو آگ میں ڈال کر دیکھ لو یقیناً خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق اُسے اس آگ سے اُسی طرح محفوظ رکھے گا جس طرح اُس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو محفوظ رکھا تو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ یاد آ گئے کہ ہمیں بھی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کہا ہے۔اگر لوگوں کو اس آگ کے ٹھنڈا ہونے میں کوئی محبہ ہے تو وہ مجھے آگ میں ڈال کر دیکھ لیں کہ کی آگ ٹھنڈی ہوتی ہے یا نہیں۔چنانچہ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں بارش برسا کر یا ہوا چلا کر اُس آگ کو ٹھنڈا کر دیا تھا اُسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ج انگریزوں کو بھیج کر اس آگ کو ٹھنڈا کیا ہوا تھا۔بیشک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ چیلنج دیا ای تھا کہ یہ لوگ مجھے آگ میں ڈال کر دیکھ لیں مگر مخالف اس بات سے ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو گورنمنٹ ہمیں پھانسی پر لٹکا دے گی۔ہاں ! ان لوگوں نے گورنمنٹ کے ذریعہ آپ کے مکان کی تلاشی کا انتظام کیا کہ شاید کوئی قابلِ اعتراض خط مل جائے جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف چارہ جوئی کی جا سکے۔مجھے یاد ہے سپرنٹنڈنٹ پولیس لیمار چنڈ جب کمرہ سے باہر نکلا تو چونکہ اُس کا قد بہت لمبا تھا اور پھر اس نے سولا ہیٹ 8 پہنی ہوئی تھی جو بہت اونچی ہوتی ہے اس لیے اُس کا سر بڑے زور سے دہلیز سے ٹکرایا اور وہ لڑکھڑا کر گرنے لگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام