خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 304

1959ء 304 خطبات محمود جلد نمبر 39 کی بنیاد رکھی ہے صرف 1928ء میں 28 دسمبر کو جلسہ کے موقع پر بارش ہوئی۔ جب بارش قریباً سارا دن جاری رہی تو میں نے ایک اعلان لکھا جس میں یہ ذکر کیا کہ چونکہ بارش کی وجہ سے سب دوستوں کا ن ایک جگہ جمع ہو کر دعا کرنا مشکل ہے اس لیے سوا پانچ بجے میں دُعا کروں گا سب دوست اپنے اپنے کمروں میں اُس وقت دُعا میں شامل ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ ابھی اُس اعلان کی نقلیں ہی ہو رہی تھیں کہ بارش بند ہوگئی اور اُس نے مجھے قریباً دو گھنٹہ تک اس امر پر تقریر کرنے کی توفیق عطا فرمادی کہ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے اور اُس کے مطالب کے سمجھنے کے لیے کن امور پر غور کرنا ضروری ہے۔ اگر چہ اس تقریر کے دوران میں بھی تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد بارش ہوتی رہی مگر لوگ شوق سے بیٹھے رہے اور اس طرح ہمارا جلسہ بخیر و خوبی گزر گیا۔ اسی طرح 1946ء کے جلسہ سالانہ میں بھی آخری روز شدید بارش ہوئی مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے تقریر کرنے کی توفیق عطا فرمادی۔ غرض اللہ تعالیٰ نے ہر جلسہ پر فضل کیا اور بارش کی وجہ سے اس میں کوئی روک پیدا نہیں ہوئی۔ جلسہ سالانہ کے بعد بالعموم سردی زیادہ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس دفعہ بھی سردی زیادہ ہو گئی ہے اس لیے جلسہ کی تقریروں اور ملاقاتوں کی وجہ سے جو کوفت مجھے ہوئی اور ملاقاتوں کی وجہ سے جو وفت اُسے دور کرنے کا بہت کم موقع ملا۔ اس کے علاوہ مجھے ٹانگ میں درد کی تکلیف تھی اور زبان پر زخم تھے۔ درد کی میرا خیال تھا کہ غالباً میں جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریریں نہیں کر سکوں گا لیکن خدا تعالی کے فضل سے میں نے جلسہ پر پچھلے سال سے بھی لمبی تقریریں کی ہیں اور اس کے باوجود گو ابھی تکلیف موجود ہے لیکن خراش اور زخم زیادہ نہیں ہوئے اور جو تکلیف باقی ہے وہ بھی خدا تعالیٰ نے فضل کیا تو دور ہو جائے گی۔ گھبراہٹ اس وجہ سے ہے کہ ٹانگ کی تکلیف پر دسواں مہینہ جا رہا ہے اور ابھی تک یہ تکلیف دور نہیں ہوئی۔ ایسا نہ ہو کہ یہ تکلیف مزمن 1 ہو جائے لیکن اگر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور سردی کم ہو گئی تو جہاں عام کمزوری دور ہو جائے گی وہاں ٹانگ کی درد میں بھی کمی آجائے گی اور جسم میں بھی طاقت پیدا ہو جائے گی۔ موجودہ بیماری کی وجہ سے میں زیادہ چل پھر نہیں سکتا لیکن اس سے پہلے میں جب مری میں تھا تو دو دو میل تک سیر کے لیے چلا جاتا۔ جابہ آیا تو وہاں ایک میل تک چلنا بھی دوبھر معلوم ہوتا تھا بلکہ بعض دفعہ دو تین فرلانگ چلنے سے تکلیف محسوس ہوتی تھی۔ گرمی کے آنے پر جسم میں طاقت آ گئی تو میں پھر اِنْشَاءَ اللہ چلنے پھرنے لگوں گا جس سے صحت میں فرق پڑ جائے گا۔ سارا دن بیٹھے رہنے