خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 299

$1958 299 خطبات محمود جلد نمبر 39 نیک محمد خان نے کہا تم نہیں جانتے میں کون ہوں۔اکبر شاہ نے کہا ہاں ! بتاؤ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا میں احمدی ہوں۔اس پر وہ شرمندہ ہو کر الگ ہو گئے۔تو در حقیقت اسلام اور احمدیت کا رتبہ پٹھان اور خان سے بڑا ہے ورنہ ہمیں ماننا پڑے گا کہ ایک پٹھان نَعُوذُ بِاللهِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک پٹھان فقہ پڑھا کرتا تھا۔اس نے فقہ کی کتاب کنز پڑھی ہوئی تھی اور اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ مذہب حنفی یہ ہے کہ حرکت کبیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اس کے بعد ایک دن اُس پٹھان نے حدیث میں پڑھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ نماز پڑھتے اور حضرت حسن اور حسین رو پڑتے تو آپ انہیں اُٹھا لیتے۔جب سجدہ میں جاتے تو انہیں زمین پر بٹھا دیتے اور جب سجدہ سے اٹھتے تو دوبارہ اُٹھا لیتے۔اس پر اُس پٹھان نے کہا خو ! محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔کوئی سنے والا بھی پاس موجود تھا۔اُس نے کہا کمبخت ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں نماز سکھائی ہے اور تم کہتے ہو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔اس پر وہ کہنے لگا کنز میں اسی طرح لکھا ہے۔تو جن قوموں میں دین سے غفلت پیدا ہو جاتی ہے اُن میں ایسی باتیں آ جاتی ہیں۔پس اگر یہ بات ٹھیک ہے کہ مردان، پشاور اور ہزارہ کی عورتیں جمعہ میں نہیں جاتیں اور وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہیں اور خان ہیں تو انہیں یا درکھنا چاہیے کہ احمدی اور مسلمان اس سے بڑا ہوتا ہے۔کوئی خان ہو یا تی پٹھان ہو بلکہ پٹھانوں کا بادشاہ بھی ہو تب بھی وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہے۔کیونکہ اگر چہ وہ پٹھانوں کا بادشاہ ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے بادشاہ ہیں۔پس پٹھان یا خان ہونے سے کسی کی بڑائی نہیں ہوتی۔بڑائی اسلام اور احمدیت سے ہوتی ہے۔اور اسلام اور احمدیت کے سیکھنے کا ذریعہ چونکہ جمعہ ہے اس لیے جلسہ کے موقع پر جبکہ پشاور، مردان اور ہزارہ وغیرہ کے علاقہ کے لوگ آئے ہوئے ہیں میں اُن سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی بیویوں اور لڑکیوں کو جمعہ میں ضرور بھیجا کرو تا کہ وہ دین سیکھیں اور اس سے واقف ہو جائیں۔ورنہ اگر وہ دین سے واقف نہیں ہوں گی تو جماعت میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فیصلہ کیا کہ آپ عورتوں میں تقریر فرمایا کریں گے۔جس عورت نے تقریر کی تحریک کی تھی وہ ان پڑھ تھی لیکن اس کا خاوند بڑا مخلص تھا۔اب اُس