خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 17

خطبات محمود جلد نمبر 39 17 $ 1958 ضلع تھر پا کر یا حیدر آباد کے ضلع میں وقف کروں گا۔اور ابھی تو اور بہت سے احمدی زمیندار ہیں جو اس غرض کے لیے زمین وقف کر سکتے ہیں۔پھر ایک ایک، دو دو ایکڑ دے کر کئی آدمی مل کر بھی اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔بہر حال چودھری صاحب کی زمین اور میری وقف شدہ زمین میں دو مرکز بن گی جائیں گے۔تیسرا مرکز ضلع مظفر گڑھ میں بنے گا۔وہاں کے ایک نوجوان نے لکھا ہے کہ میرا ایک مربع ہے جو مجھے فوجی خدمات کے صلہ میں ملا ہے وہ مربع میں آپ کی اس سکیم میں دیتا ہوں۔مگر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اُس کو اس طرح ساری زمین سے محروم کر دیں۔میں نے یہ تجویز سوچی ہے کہ ہم ان سے کہیں گے کہ اس زمین میں سے دس ایکڑ ہمیں کرایہ پر دے دے اور باقی پندرہ ایکڑ وہ خود استعمال کی کرے۔اور دس ایکڑ کوئی معمولی زمین نہیں۔ہالینڈ میں میں نے دریافت کیا تھا وہاں تین ہزار روپیہ کی فی ایکٹر آمد ہوتی ہے۔اگر تین ہزار فی ایکٹر آمد ہو تو دس ایکڑ سے تمہیں ہزار آمد ہو سکتی ہے۔اگر سو مربع ہمیں اس سکیم میں مل جائے تو پچھتر لاکھ سالانہ آمد ہو جاتی ہے اور اس سے ہم سارے مشنوں کا خرچ چلا سکتے ہیں۔طریق ہم بتائیں گے کام کرنا ہمارے مبلغوں کا کام ہے۔اگر ان کو خدا تعالی اسلام کی خدمت کا جوش دے اور وہ شیخ سعدی کے بیان کردہ واقعہ کو یاد رکھیں تو یہ سکیم بہت اچھی طرح چلائی جاسکتی ہے۔کیونکہ جن لوگوں میں کام کرنے کی روح پائی جاتی ہو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم حقیر اور ذلیل کی ہیں وہ صرف یہ بات مانتے ہیں کہ آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشتِ من آں منم کاندر میانِ خاک و خوں بینی سرے میں وہ نہیں ہوں کہ جس کی پیٹھ تو جنگ میں دیکھے بلکہ تو میرے سر کو میدان میں خاک و خون کو میں لتھڑا ہوا پائے گا۔ہماری جنگ تلوار کی جنگ نہیں بلکہ دلائل کی جنگ ہے اور دلائل کی جنگ میں جس شخص میں کام کرنے کی روح پائی جاتی ہو وہ یہی کہتا ہے کہ میں وہ نہیں جو دلائل کے میدان میں اپنی پیٹھ دکھاؤں بلکہ اگر مقابلہ کی صورت پیدا ہوئی تو میں سب سے آگے ہوں گا اور جب تک میری جان نہ چلی جائے میں قربانی کا عہد نہیں چھوڑوں گا۔اگر اس طرز پر عمل کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ سکیم بہت شاندار طور پر کامیاب ہو گی۔ابھی تو میری جلسہ سالانہ کی تقریر پر صرف چودہ دن گزرے ہیں لیکن اب آ کر لوگوں کو میری تحریک کا احساس ہوا ہے اور انہوں نے اپنے نام لکھوانے شروع کیے ہیں۔