خطبات محمود (جلد 39) — Page 18
$ 1958 18 خطبات محمود جلد نمبر 39 اسی طریق پر ہر تحریک بڑھتی ہے۔جب میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تو جماعت کے لوگوں نے مجھے لکھا تھا کہ ہم نے تو کی آپ کی تحریک کا یہ مطلب سمجھا تھا کہ سات ہزار روپیہ جمع کرنا ہے مگر اب وہ کام لاکھوں تک پہنچ گیا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دوست نے مجھے لکھا کہ میں نے آپ کی تحریک پر بہت سا چندہ لکھوا دیا تھا اور یہ سمجھا تھا کہ آپ نے صرف ایک ہی دفعہ چندہ مانگا ہے لیکن اب میں اپنا چندہ کم نہیں کروں گا بلکہ اپنے وعدہ کے مطابق دینے کی کوشش کروں گا۔اس کے علاوہ اور بھی کئی لوگ تھے جنہوں نے اُس وقت سوسو ، دو دو سو روپیہ چندہ لکھوا دیا تھا مگر بعد میں انہوں نے اُس چندہ کو کم نہ کیا اور بڑھتے بڑھتے وہ سولہ سو، دو ہزار یا اڑھائی ہزار چندہ دینے لگ گئے۔ی تحریک بھی آہستہ قدموں سے شروع ہوئی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے امید ہے کہ جماعت میں اس قد را خلاص اور جوش پیدا ہو جائے گا کہ وہ لاکھوں اور کروڑوں روپیہ دینے لگ جائے گی۔تم یہ نہ دیکھو کہ ابھی ہماری جماعت کی تعداد زیادہ نہیں۔اگر یہ سکیم کامیاب ہوگئی تو تم دیکھو گے کہ دو تین کروڑ لوگ تمہارے اندر داخل ہو جائیں گے۔اور جب دو کروڑ اور آدمی تمہارے ساتھ شامل ہو جائیں گے تو آمد کی کمی خود بخود دُور ہو جائے گی۔دو کروڑ آدمی چھ روپیہ سالانہ دے تو بارہ کروڑ بن جاتا ہے ہے۔اگر ایک کروڑ روپیہ ماہوار آمد ہو تو دولاکھ مبلغ رکھا جاسکتا ہے جو ہمیں لاکھ میل کے رقبہ میں پھیلی جاتا ہے اور اتنا رقبہ تو سارے پاکستان کا بھی نہیں۔پس ہمت کر کے آگے بڑھو اور وہی نمونہ دکھلاؤ کہ آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشت من آں منم کاندر میانِ خاک و خوں بینی سرے دشمن تمہارے مقابلہ میں کھڑا ہے اور یہ جنگ روحانی ہے جسمانی نہیں۔اس جنگ میں دلائل کی اور دعاؤں سے کام لینا اصل کام ہے۔صحابہ کو دیکھ لو وہ تلواروں سے لڑتے تھے اور میدانِ جنگ میں ان کی گردنیں کٹتی تھیں مگر وہ اس سے ذرا بھی نہیں گھبراتے تھے۔جنگِ اُحد کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے متعلق ہدایت فرمائی کہ اُسے تلاش کرو وہ کہاں ہے۔صحابہ نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی لاش دوسری لاشوں کے نیچے کہیں دبی پڑی ہے اس لیے وہ کہیں ملی نہیں۔آپ نے فرمایا جاؤ اور پھر تلاش