خطبات محمود (جلد 39) — Page 266
266 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 فضیلت دی گئی ہے سخت صدمہ ہوا اور وہ وہاں سے نکل کر باہر آ گئے۔وہ بارہ تیرہ نوجوان تھے۔باہر آ کر انہوں نے آپس میں باتیں شروع کر دیں کہ دیکھو! آج ہماری کتنی ذلت ہوئی ہے۔وہ غلام جن کو ہم کل جو تیاں مارا کرتے تھے آج ان کو آگے بٹھایا گیا ہے اور ہمیں پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ان میں سے ایک نوجوان عقلمند تھا۔اُس نے کہا تمہیں پتا ہے کہ جب تمہارے باپ دادا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے اور آپ کو قتل کرنے کی فکر میں تھے اُس وقت یہ غلام اپنی جانیں دے کر آپ کو بچاتے تھے۔حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہیں تمہارے خلیفہ نہیں۔اگر حضرت عمرؓ نے ان کی قربانیوں کی وجہ سے جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کی تھیں ان کا احترام کیا ہے تو یہ بات ضروری تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ تو درست ہے مگر اس ذلت کا کوئی علاج بھی ہے؟ وہ کہنے لگا اس کا کی علاج بھی حضرت عمرؓ سے ہی پوچھنا چاہیے۔چنانچہ وہ دوبارہ حضرت عمر کے پاس گئے۔آپ نے فرمایا تم تو چلے گئے تھے۔پھر دوبارہ کیوں آئے ؟ انہوں نے کہا ہم نے آپ سے مشورہ لینا ہے۔اے امیر المومنین ! ہمیں پتا ہے کہ ہمارے باپ دادوں نے بڑی مخالفتیں کی تھیں اور انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر بڑے بڑے ظلم کیے تھے لیکن وہ تو مر گئے۔اب ہم اُن کی اولادیں اِس کی سزا بھگت رہی ہیں۔کیا کوئی ایسا ذریعہ بھی ہے جس سے ہم اس داغ کو مٹا سکیں۔چونکہ وہ مکہ کے رؤساء کے بیٹے تھے حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ کے منہ سے بات کی تک نہ نکل سکی۔آپ نے رقت کے جوش میں صرف ہاتھ اٹھا کر شام کی طرف اشارہ کر دیا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے سوالوں کا جواب اس طرف ہے۔یعنی تم شام میں چلے جاؤ۔وہاں روم کے بادشاہ سے لڑائی ہو رہی ہے، وہاں جا کر اسلام کی خدمت کرو۔اس سے تمہارے سب داغ دھلی جائیں گے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ وہ لڑکے اُسی وقت گھوڑوں پر سوار ہو کر شام کی طرف چلے گئے اور پھر ان میں سے کوئی بھی زندہ واپس نہیں آیا سارے کے سارے وہیں شہید ہو گئے۔11 تو اس میں کوئی شبہ نہیں بعد میں انہوں نے قربانیاں کیں لیکن آخر ابتدائی چیز کیسے دور ہوسکتی ہے۔وہ تو بہر حال قائم رہے گی۔ابو جہل کو دیکھو چونکہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑے بھاری ظلم کیے تھے اس لیے باوجود اس کے کہ اُس کے بیٹے عکرمہ نے بڑی قربانیاں کیں پھر بھی اُس کی اولا د اس کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔چنانچہ ابوجہل کی اولا داب بھی