خطبات محمود (جلد 39) — Page 267
$1958 267 خطبات محمود جلد نمبر 39 سرگودھا کے اردگرد موجود ہے لیکن وہ اپنے آپ کو ابو جہل کی اولاد نہیں کہتے بلکہ کسی اور کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اس کی یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے ابو جہل بدنام ہو چکا ہے اور لوگ اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرنا بر اخیال کرتے ہیں حالانکہ اس کے بیٹے نے بعد میں اسلام کی بڑی خدمت کی تھی۔ابو جہل کے مظالم یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھر سے نکل کرصفا پہاڑی کے ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ اس بات پر غور کر رہے تھے کہ میں نے اپنی قوم کو اتنی تبلیغ کی ہے لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔اتنے میں ابو جہل آپ کے پاس سے گزرا اور اُس کے نے آپ کو زور سے تھپڑ مارا اور پھر اُس نے گندی گالیاں دینی شروع کر دیں۔مگر رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے۔آپ کا آبائی کی مکان صفا پہاڑی کے سامنے ہی تھا۔آپ کے مکان کا دروازہ کھلا تھا صرف پردہ لٹکا ہوا تھا جس کی میں سے گھر کی ایک پرانی لونڈی جس نے اپنی ساری عمر اُس گھر میں ہی گزار دی تھی یہ واقعہ دیکھ رہی تھی۔بوڑھی لونڈیاں بھی گھر کے افراد کی طرح ہی ہو جاتی ہیں۔اس لونڈی نے گھر کے سب بچوں کو پالا تھا جو اب بڑی عمر کے ہو چکے تھے۔اس نے یہ سارا واقعہ دیکھا مگر وہ ایک عورت تھی کر ہی کیا کی سکتی تھی۔غصہ میں اندر ہی اندر گڑھتی رہی۔یہ واقعہ نو دس بجے صبح کے قریب ہوا۔شام کے وقت کی حضرت امیر حمزہ جنہیں شکار کا بہت شوق تھا تیر کمان کندھے پر ڈالے ہوئے اندر داخل ہوئے۔انہیں دیکھتے ہی وہ لونڈی غصہ سے آگے بڑھی اور کہنے لگی تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو! تمہیں پتا نہیں کہ آج تمہارے بھیجے کے ساتھ کیا ہوا؟ میں اندر کھڑی دروازہ سے دیکھ رہی تھی۔محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) باہر پتھر پر بیٹھا تھا کہ ابو جہل آیا اور اُس نے اُسے زور سے تھپڑ مارا اور پھر اُسے گالیاں دینی شروع کر دیں۔خدا کی قسم! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُسے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔وہ اُس کی گالیاں خاموشی سے سنتا رہا اور تکلیف برداشت کرتا رہا۔تم اتنے بہادر بنے پھرتے ہو اور ہر وقت جانوروں کا شکار کرتے رہتے ہو، تم ابو جہل کو جا کر کیوں نہیں مارتے ؟ لونڈی کے منہ سے نکلی ہوئی بات حضرت حمزہ کے دل پر اثر کر گئی۔وہ ابھی مسلمان تو نہیں ہوئے تھے لیکن پھر بھی اپنے بھتیجے پر زیادتی کی وجہ سے انہیں غیرت آئی۔وہ وہیں سے اُلٹے واپس لوٹے اور سیدھے خانہ کعبہ میں گئے۔رؤسائے مکہ خانہ کعبہ میں بیٹھے