خطبات محمود (جلد 39) — Page 247
1958ء 247 خطبات محمود جلد نمبر 39 تو کل کرنے کے وہ بڑے جوش سے کہنا شروع کر دیتے ہیں میں ایسا کر دوں گا، میں ایسا کر دوں گا حالانکہ اس ”میں“ کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوتی ۔ ایک دم میں ہارٹ فیل ہو جائے تو میں وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ مگر نہ وہ مسجد کی پانچ وقت کی نمازوں میں اللهُ اَكْبَرُ کہنے کی کوئی قدر کرتے ہیں، نہ جمعہ کی نماز جو سارے شہر کے لیے ہوتی ہے اس کی الله اَكْبَرُ کی کوئی قدر کرتے ہیں اور نہ امام کے اللهُ اَكْبَرُ کہنے کی کوئی پروا کرتے ہیں۔ حالا بروا کرتے ہیں ۔ حالانکہ امام فرائض کی سترہ رکعتوں میں نماز شروع کرتے ہوئے اللہ اکبر کہتا ہے اور پھر سترہ رکعتوں میں وہ ہر رکوع میں جاتے ہوئے اللهُ اَکبَر کہتا ہے ۔ پھر ہر سجدہ میں جاتے اور اس سے اُٹھتے ہوئے اللهُ اَکبَر کہتا ہے۔ پھر اذان میں روزانہ تمہیں دفعہ اللهُ اکبر کی آواز سنتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ عملی طور پر دوسرے انسانوں کو اس سے بڑا سمجھتا ہے۔ ایک دفعہ قاضی اکمل صاحب کے والد مولوی امام الدین صاحب مرحوم جو صوفی مزاج انسان تھے اور احمدیت سے پہلے بعض اور پیروں کی بیعت کر چکے تھے انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ ہمارے پیر صاحب یہ کہا کرتے تھے کہ مجھے خدا تعالیٰ کا اتنا قرب حاصل ہے کہ میں عرش پر سجدہ کرتا ہوں مگر احمدیت میں مجھے یہ نظارہ نظر نہیں آیا۔ میں نے اُن کو کئی جواب دیئے مگر اُن کی تسلی نہ ہوئی ۔ آخر ایک دن میں نے ان سے کہا کہ دیکھیے ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی انسان پر ظاہر ہو جائے اور وہ اس کو اپنا حقیقی کارساز سمجھنے لگ جائے۔ کہنے لگے ہاں ۔ میں نے کہا آپ جانتے ہیں حضرت صاحب کو خدا تعالیٰ پر کتنا تو کل تھا ؟ بغیر اس کے کہ کوئی ظاہری سامان آپ کے پاس ہوتا سینکڑوں مہمان روزانہ آپ کے پاس آتے اور اُن تمام کے اخراجات اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی رنگ میں پورے کر دیتا کیونکہ اس کا وعدہ تھا کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوحِيَ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ - 1 تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کو ہم آسمان سے وحی کریں گے۔ گویا صرف اُنہی کو وحی نہیں ہوتی تھی بلکہ ہر شخص جو آپ کو روپیہ دیتا تھا اُس کو بھی وحی ہوتی تھی ۔ اب آپ یہ بتائیے کہ جن پیر صاحب کی آپ نے بیعت کی تھی کیا اُن کی بھی یہی حالت تھی؟ کیا اُن کے اندر بھی خدا تعالیٰ پر اس قسم کا تو کل پایا جاتا تھا جیسے حضرت مرزا صاحب میں پایا جاتا تھا؟ وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے آج یہ بات میری سمجھ میں آگئی ہے کیونکہ میرا جو پیر تھا وہ کہا کرتا تھا کہ میں عرش پر سجدہ کرتا ہوں ۔ اُس کی یہ حالت تھی کہ جب غلہ نکلنے کا وقت آتا تو مریدوں کے کھیت میں جا بیٹھتا کہ میرا حصہ مجھے دو۔ میں نے کہا بتائیے کہ کبھی