خطبات محمود (جلد 39) — Page 222
خطبات محمود جلد نمبر 39 222 $1958 حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑے کیے جاتے ہیں۔انہیں یہ ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ دوسرے کے پاس جائیں بلکہ دوسرے لوگ خود چل کر اُن کے پاس آتے ہیں۔دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک گوشہ تنہائی میں رہنے والے تھے مگر فنانشل کمشنر لاہور سے آپ سے ملنے کے لیے آیا۔اسی طرح 1925ء میں گورنر پنجاب خود مجھ سے ملنے کے لیے منالی آیا۔اس ملاقات کی تقریب اس طرح پیدا ہوئی کہ میں نے اپنی ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ سے ایک دفعہ منالی کے پہاڑوں کا ذکر کیا کہ وہ بہت اچھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے بھی دکھا ئیں۔اُن دنوں وہاں مسٹر برک اسٹنٹ کمشنر لگے ہوئے تھے اور چونکہ منالی میں رہائش کی جگہ کم ملتی ہے اس لیے میں نے انہیں لکھا کہ آپ ہمارے لیے ڈاک بنگلہ کا انتظام کر دیں۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ بڑی خوشی سے آ جائیں۔آپ کے لیے ڈاک بنگلہ میں رات دن ٹھہرنے کا انتظام کر دیا گیا ہے۔جب ہم کو پہنچے تو میں نے چودھری مظفرالدین صاحب کو جو اُس وقت میرے پرائیویٹ سیکرٹری تھے تحصیلدار کے پاس تی بھیجا اور میں نے کہا ان سے پوچھو کہ ڈاک بنگلہ رُکا ہوا تو نہیں؟ اگر رکا ہوا نہ ہو تو ہم مقررہ وقت سے ایک دو دن پہلے ہی آجائیں؟ جب وہ گئے تو میں نے اپنی ہمشیرہ سے کہا کہ مجھے کوئی الہام تو نہیں ہوا لیکن میرے دل میں بڑے زور سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ وہاں گورنر پنجاب مجھ سے ملنے کے لیے آئے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔چودھری مظفرالدین صاحب واپس آئے تو کہنے لگے کہ تحصیلدار کہتا تھا تی کہ اب پہلے اور پچھلے کا کوئی سوال نہیں آپ کو اپنی پہلی اجازت بھی منسوخ سمجھنی چاہیے کیونکہ ہمیں حکم آ گیا ہے کہ اب یہ بنگلہ کسی اور کونہ دیا جائے۔میں نے کہا اُس سے وجہ بھی تو پوچھنی چاہیے تھی۔وہ کہنے لگے میں نے پوچھا تھا مگر انہوں نے کہا کہ میں بتا نہیں سکتا۔میں نے چودھری صاحب سے کہا آپ پھر جائیں اور اُس سے کہیں کہ تم تو نہیں بتاتے لیکن ہم تمہیں بتا دیتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ گورنر صاحب آ رہے ہیں۔اب ہمارے بتا دینے پر تو آپ کو اقرار کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔چودھری صاحب نے جب اُس سے یہ بات کہی تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا آپ کو کس طرح پتا چلا کہ گورنر آ رہا ہے؟ یہ امر تو بہت ہی مخفی رکھا گیا تھا۔خیر جب مجھے معلوم ہوا کہ پہلا انتظام بریکار ہو گیا ہے تو میں نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو بھیج دیا کہ وہاں جا کر کوئی مکان تلاش کریں۔چنانچہ ایک ہندو جو سیشن حج تھا اُس کا مکان ہمیں مل گیا اور ہم وہاں چلے گئے۔دوسرے دن صبح کے وقت ہم سیر کے لیے گئے اور