خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 213

1958ء 213 خطبات محمود جلد نمبر 39 ے لوگوں کو روک دور ہو گئی اور اب ہر مبلغ کو کو بڑی آسانی سے ے پاسپورٹ مل جاتا ہے حالانکہ دوسرے پاسپورٹ لینے کے لیے بھی بڑی بڑی رقمیں خرچ کرنی پڑتی ہیں۔ چودھری رستم علی صاحب کا ایک بھتیجا یا بھانجا ایک دفعہ (تقسیم سے قبل ) بمبئی میں اس مجرم میں پکڑا گیا کہ وہ پاسپورٹ بنوانے کے لیے لوگوں سے پانچ پانچ ، چھ چھ سو روپیہ لیتا تھا۔ تو دوسرے لوگوں میں سے بڑی بڑی حیثیتوں والوں کو بھی پاسپورٹ کے ملنے میں کئی قسم کی دقتیں پیش آ جاتی ہیں لیکن ہمارا مبلغ جو اُن سے بہت کم حیثیت ہوتا ہے اسے صرف جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے آسانی سے پاسپورٹ مل جاتا ہے۔ پاکستان کے ایک سابق وزیر تھے جو اپنی بیوی کے ساتھ یورپ کی سیاحت کے لیے گئے ۔ زیورک میں وہ شیخ ناصر احمد صاحب سے بھی ملے اور کہنے لگے کہ اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو میں اس کے لیے حاضر ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایکسچینج کی دقتوں کی وجہ سے بہت دیر بعد خرچ ملتا ہے ۔ اگر آپ اس دقت کو رفع کر اسکیں تو ہمیں آسانی ہو جائے گی ۔ اُس کی بیوی نے یہ بات سنی تو وہ اپنے خاوند سے کہنے لگی کہ ان کے متعلق ضرور کوشش کرو۔ اب تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو کہ کام صرف یہی لوگ کر رہے ہیں ۔ تمہارے ایمبیسیڈر تو صرف گھروں میں بیٹھے رہتے یا سیریں کرتے رہتے ہیں۔ اس نے وعدہ کیا کہ میں پونڈوں کی کمی دور کروانے کی کوشش کروں گا مگر اس کے آتے ہی وزارت بدل گئی اور وہ اپنے وعدہ کو پورا نہ کر سکا۔ مگر خدا تعالیٰ نے بعض اور آدمی پیدا کر دیئے جنہوں نے پونڈوں کی کمی کے باوجود ہمارے ساتھ نیک سلوک کیا۔ اس کی وجہ سے ہمارے مبلغوں کو کچھ نہ کچھ خرچ پہنچتا ہی رہتا ہے۔ بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ ہمیں قربانی کی توفیق دے رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ صرف اتنی قربانی کرنے پر ہم یہ کس طرح امید کر سکتے ہیں کہ ہزاروں بلکہ لاکھوں سال تک خدا تعالیٰ کا سایہ ہماری جماعت کے سر پر رہے گا۔ صحابہؓ نے جو قربانیاں کیں وہ اپنی ذات میں اتنی بے مثال ہیں کہ آج بھی ان کا تصور کر کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ بلال کے نمونہ کو ہی دیکھ لو ۔ کیا آج کوئی ایک بھی احمدی ہے جو بلال جیسا نمونہ دکھا سکے؟ سخت گرمیوں کے موسم میں جب دھوپ خوب چمک رہی ہوتی تھی لوہے کی میخوں والے جوتے پہن کر مکہ کے لوگ بلال کے سینہ پر چڑھ جاتے ، ۔ اُس پر ناچتے اور گو دتے اور پھر کہتے کہ کہ کہو خدا کے سوا اور بھی معبود ہیں مگر وہ یہی کہتے کہ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ أَحَدٌ اللہ ایک ہے۔ اللہ ایک