خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 209

1958ء 209 خطبات محمود جلد نمبر 39 قرار دینے کا وہی مفہوم ہے جو اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ 2 میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ظاہری طور پر جو خوبیاں اور نیکیاں کسی انسان میں پائی جائیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی آتی ہیں اور باطنی طور پر جو صفائی دل میں پیدا ہوتی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ 3 یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان اور اُس کے دل کے درمیان چکر لگاتا رہتا ہے۔ یعنی انسانی قلب میں کوئی بھی ایسا خیال پیدا نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی نظر سے نہ گزرتا ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کی تائید میں ہو تو شیطانی وساوس اور شبہات اُس کے ایمان کو متذ بذب نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر خدائی تائید شامل حال نہ ہو تو شیطانی وساوس اُس پر اثر ڈال لیتے ہیں ۔ گویا بتایا کہ ظاہر میں جس قدر نہ ہیں۔ خوبیاں پائی جانی چاہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پیدا ہوتی ہیں اور باطنی صفائی بھی اُسی کے فضل سے میسر آتی ہے یہ انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔ لوگ عموماً سمجھ لیتے ہیں کہ جب ہم اچھے ہیں تو لازماً ہماری اولاد بھی قیامت تک اچھی ہی رہے گی اور اس وجہ سے وہ اُن کی نیک تربیت اور دینی تعلیم سے غافل ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا افل ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ کہا ہے کہ ان کی آئندہ نسلیں بالکل تباہ ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں تمام تباہیاں اور بربادیاں اسی وجہ سے ہوئی ہیں کہ لوگوں نے یہ خیال کر لیا کہ جب ہم اچھے ہیں تو لازماً ہماری اولاد بھی اچھی رہے گی حالانکہ نہ قومی نیکیاں خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل ہوتی ہیں اور نہ آئندہ نسلوں کی درستی اُس کے فضل کے بغیر ہوتی ہے۔ اور اگر کسی وقت ہماری جماعت نے بھی اس نکتہ کو فراموش کر دیا تو اسے بھی اُنہی روحانی خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلی قوموں کو پیش آئے۔ ہماری موجودہ حالت تو ابھی ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں ” کیا پڑی اور کیا پدی کا شور با ۔ ابھی تو ہم نے کوئی کام ہی نہیں کیا صرف چند آدمی زندگیاں وقف کر کے غیر ممالک میں گئے ہیں مگر ان کی قربانی صحابہ اور حواریوں کی قربانیاں تو الگ رہیں امت محمدیہ میں جو بلند مرتبہ صوفیاء گزرے ہیں ان کی قربانیوں کے مقابلہ میں بھی پیش نہیں کی جاسکتیں۔ حضرت معین الدین صاحب چشتی ایران کے علاقہ چشت سے ہندوستان آئے اور اجمیر چلے گئے جہاں کئی سو میل تک ایک مسلمان بھی نہیں تھا اور پھر کسی سے ایک پیسہ لیے بغیر وہیں اپنی ساری عمر گزار دی لیکن ہمارے مبلغوں کی طرف سے کئی دفعہ چٹھیاں آجاتی ہیں کہ ہمیں خرچ کم ملتا ہے اسے