خطبات محمود (جلد 39) — Page 9
$1958 9 خطبات محمود جلد نمبر 39 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ایک تلوار بھی دی ہوئی ہے۔تو اُس سے ڈر۔اور اگر تجھے یہ خیال ہے کہ اس زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی کرامت نہیں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے پاس آ اور ان سے کرامت دیکھ لے۔اُن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیکھرام کی بدزبانیوں کے مقابلہ میں یہ شعر کہے تھے۔انہیں کی طرف پروفیسر عبداللہ صاحب نے اشارہ کیا اور کہا کہ آپ کے پیر کو اگر کوئی بُرا بھلا کہتا ہے تو آپ فورا جوش میں آجاتے ہیں اور اُسے مباہلہ کا چیلنج دے دیتے ہیں لیکن اگر کوئی میرے پیر کو گالیاں دے تو آپ کہتے ہیں صبر کرو۔میں ایسی کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا بھی ایک اسی قسم کا واقعہ ہے۔ایک دفعہ میاں چٹو جو قریشی محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری لاہور والوں کے دادا تھے اور اہلِ قرآن میں سے تھے انہوں کی نے ایک عرب کو جو ہندوستان میں آیا ہوا تھا لکھنو سے بُلایا۔اُن کی غرض یہ تھی کہ اگر وہ شخص اہلِ قرآن کی ہو گیا تو عرب میں یہ مذہب پھیل جائے گا۔میاں چٹو اُس عرب کو قادیان لائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کروائی۔گفتگو کے دوران میں وفات مسیح کا ذکر آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ پنجابی تھے اور آپ مولویوں کی طرح تلفظ ادا نہیں کرتے تھے اس لیے آپ کی نے سادہ طریق پر قرآن کہہ دیا۔اس پر وہ عرب کہنے لگا کہ مسیح موعود بنا پھرتا ہے اور قرآن کہنا بھی نہیں آتا۔”ق“ کی بجائے ”کاف“ کہتا ہے۔اُس کی زبان سے یہ لفظ نکلے ہی تھے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے یکدم اپنا ہاتھ اُٹھایا اور اُسے مارنا چاہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی عبد الکریم صاحب سے کہا ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور جب تک یہ لوگ اس مجلس سے کی اُٹھ کر چلے نہ جائیں انہیں چھوڑیں نہیں اور صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کا یہ حال تھا کہ وہ کانپتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے مجھے چھوڑو میں اسے کچل کر رکھ دوں گا اس نے حضرت صاحب کی ہتک کی ہے۔پروفیسر عبداللہ صاحب جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے یو پی کے رہنے والے تھے اور سارے ہندوستان میں تماشے دکھاتے پھرتے تھے۔پھر وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلیم حاصل کی۔اُس وقت ان کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔وہ پہلے بڑے بڑے سرکسوں کے مالک