خطبات محمود (جلد 39) — Page 194
1958ء 194 خطبات محمود جلد نمبر 39 جرمانہ کیا تھا اور یا آپ کے بیٹے کے پاس وہ آیا اور اُس نے کہا کہ میرے لیے دُعا کریں ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا ۔ غرض اللہ تعالیٰ جب مدد کرنے پر آتا ہے تو کوئی طاقت اس کی مدد کو روک نہیں سکتی ۔ پس مومن کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے اور اس سے دُعائیں کرنی چاہیں ۔ جو شخص اللہ تعالی پر سچا تو کل رکھتا ہے اسے نہ کوئی آسمان میں ضرر پہنچا سکتا ہے اور نہ زمین میں بلکہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اُس کی حفاظت کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب پادری مارٹن کلارک نے مقدمہ کیا تو میں نے بھی دُعا کی۔ ایک رات میں نے رویا میں دیکھا کہ میں باہر سے آ رہا ہوں اور اُس گلی میں سے جو مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکانات کے نیچے ہے اپنے مکان میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔ وہاں مجھے بہت سے سپاہی کھڑے دکھائی دیئے جنہوں نے مجھے اندر جانے سے روکا مگر پھر کسی نے کہا کہ یہ گھر کا ہی آدمی ہے اسے اندر جانے دو۔ چنانچہ میں اندر چلا گیا۔ جب میں ڈیوڑھی میں داخل ہو کر اندر جانے لگا تو وہاں ایک تہہ خانہ ہوا کرتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ پولیس والوں نے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کیا ہوا ہے اور انہوں نے آپ کے ارد گرد اوپلوں کا ڈھیر لگا رکھا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان اوپلوں کو آگ لگا دیں۔ میں یہ نظارہ دیکھ کر سخت گھبرایا مگر اسی دوران میں اچانک میری نظر او پر اٹھی تو میں نے دیکھا کہ دروازہ کے اوپر نہایت موٹے اور خوبصورت حروف میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ”جو خدا کے پیارے ا بندے ہوتے ہیں اُن کو کون جلا سکتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا تو ہم نے کہا ئنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلْمًا عَلَى ابرهيم 4 یعنی اے آگ ! ابراہیم ہمارا بندہ ہے تو اس کے لیے ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی کا موجب بن جا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ اُس وقت بارش برسی اور آگ بجھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بچالیا۔ اور پھر یہ آگ اُن کے لیے اس طرح بھی ٹھنڈک اور سلامتی کا موجب بنی کہ اس نشان کو دیکھ کر آپ پر کئی لوگ ایمان لے آئے اور مخالفوں کو بھی ہدایت نصیب ہو گئی۔ پس مخالفتوں کی پروا نہ کرو اللہ تعالیٰ پر ہمیشہ تو کل رکھو اور اس سے اپنی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتے رہو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال رہے گا اور وہ تمہیں ہر الفضل 5 ستمبر 1958ء) میدان میں کامیابی عطا فرمائے گا“۔