خطبات محمود (جلد 39) — Page 193
$1958 193 خطبات محمود جلد نمبر 39 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسی طرح لیٹے لیٹے نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ فرمایا اللہ۔آپ کی زبان سے یہ لفظ نکلا ہی تھا کہ اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراوہ تلوار اپنے ہاتھ میں پکڑ لی اور پھر اُس سے فرمایا کہ بتا اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اُس نے کہا آپ ہی مہربانی کریں اور معاف فرما دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور آپ نے فرمایا تم میرے منہ سے اللہ کا لفظ سن کر ہی اس کی نقل کر لیتے اور کہہ دیتے کہ اللہ بچائے گا مگر تم سے اتنا بھی نہ ہو سکا اور تم نے پھر بھی یہی کہا کہ آپ ہی مہربانی کریں۔3 غرض اللہ تعالیٰ جب بچانے پر آتا ہے تو بغیر سامانوں کے بھی بچالیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب کرم دین بھیں والا مقدمہ ہوا تو چونکہ مجسٹریٹ ہندو تھا آریوں نے اُسے ورغلایا کہ وہ اس مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سزا دینے کی کوشش کرے اور مجسٹریٹ نے بھی اُن سے وعدہ کر لیا۔خواجہ کمال الدین صاحب کو یہ خبر ملی تو وہ سخت کی گھبرائے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آ کر کہا کہ حضور! ایک بڑی وحشت ناک خبر ملی ہے۔ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آریوں نے ایک میٹنگ کی ہے جس میں انہوں نے مجسٹریٹ کو بھی بلوایا اور کہا کہ تمہارے پاس مرزا صاحب کا مقدمہ ہے تم انہیں کچھ نہ کچھ سزا ضرور دے دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ساری قوم تمہارا بائیکاٹ کر دے گی۔چنانچہ مجسٹریٹ نے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ کی اس مقدمہ میں کوئی نہ کوئی سزا ضرور دے دے گا۔اس لیے ہمیں ابھی سے اس کا فکر کرنا چا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس وقت لیٹے ہوئے تھے۔جب انہوں نے یہ بات کہی تو آپ جوش سے اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا خواجہ صاحب ! خدا تعالیٰ کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ میں خدا تعالیٰ کا شیر ہوں۔وہ مجھ پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔آخر اس نے جرمانہ کیا جو نواب محمد علی خان صاحب نے اُسی وقت ادا کر دیا اور بعد میں اپیل کرنے پر واپس ہو گیا۔مگر اس کی سزا خدا تعالیٰ نے اُسے یہ دی کہ اُس کا بیٹا جو گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا راوی میں تیرتا ہوا ڈوب گیا اور وہ اس غم میں نیم پاگل ہو گیا۔میں ایک دفعہ دہلی جارہا تھا کہ لدھیانہ کے اسٹیشن پر وہ مجھے ملا اور بڑے الحاح سے کہنے لگا کہ دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صبر کی توفیق دے مجھ سے بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اور میری حالت ایسی ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ میں کہیں پاگل ہی نہ ہو جاؤں۔اب یا تو اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کی