خطبات محمود (جلد 39) — Page 164
164 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 کر سکتا ہے۔3 اگر پاکستان کے رہنے والوں میں بھی وہی ایمان ہوتا جو صحابہ میں پایا جاتا تھا اور اگر ی ان کے دشمن کے پاس بھی ویسے ہی سامان ہوتے جیسے ان کے پاس ہیں تو آٹھ کروڑ آدمی اسی کروڑ کا ی مقابلہ کر سکتا تھا بلکہ روم کی لڑائیوں میں تو ایک ایک آدمی نے ہزار ہزار کا بھی مقابلہ کیا ہے۔اس حساب سے تو آٹھ کروڑ آدمی اسی ارب کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمانوں میں وہ ایمان کہاں ہے۔اگر صحابہ جیسا ایمان ہوتا تو عید کے دن بھی ریڈیو پر کنچنوں کے گانے کیوں سنائے جاتے۔میں نے پچھلی عید پر کوئی مفید پروگرام سننے کے لیے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ریڈیو سارا دن گانے نشر کرے گا۔جن لوگوں کے دلوں سے دین کی عظمت اس قدر اُٹھ گئی ہو کہ وہ دن جو خدا تعالیٰ کے ذکر کے لیے مخصوص ہے اُس میں بھی وہ اپنا کام یہی سمجھیں کہ کچنوں کا گا ناسنیں اور دوسروں کو سنوائیں ، اُن سے کسی اور نیکی کی کیا توقع ہو سکتی ہے۔اور جب لوگوں کی ایمانی حالت اس حد تک کمزور ہو چکی ہو تو ہمیں اُن نتائج کی کہاں امید ہوسکتی ہے جو صحابہ نے حاصل کیے۔لیکن میں سمجھتا ہوں ایک غلطی پاکستان کی بھی ہے۔شیخ عبداللہ کئی سال سے قید میں ہیں اور شیخ عبداللہ ایک انسان ہیں فرشتہ نہیں کہ اُس پر کبھی موت نہیں آسکتی۔اس لیے گلیہ شیخ عبداللہ پر انحصار کرنا دانشمندانہ سیاست نہیں سمجھا جاسکتا۔شیخ عبداللہ نے 1931ء میں میرے ساتھ مل کر کام شروع کیا لی تھا اور اُس وقت وہ بالکل نو خیز نوجوان تھے اور پھر انہوں نے ایسی تکالیف میں اپنی زندگی گزاری ہے کہ جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔وہ خطرناک قیدوں میں ڈالے گئے ، انہیں مارا پیٹا گیا اور انہیں فاقوں سے رکھا گیا۔ایسے آدمی کی بھلا کتنی عمر ہو سکتی ہے۔اس میں کوئی طبہ نہیں کہ گاندھی جی نے بھی اپنی عمر کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزارہ ہے مگر انگریزوں میں شرافت اور انسانیت تھی اور وہ کوئی سختی نہیں کرتے تھے مگر شیخ عبداللہ کے متعلق تو خود ہندوؤں نے اعلان کیا ہے کہ ان پر بڑی سختی کی جاتی ہے اور ایسے ایسے ظلم کیے جاتے ہیں جو نا قابل برداشت ہیں۔مرد ولا سارا بائی نے اس کے متعلق اعلان کیا۔پھر بز از 4 نے اعلان کیا کہ ان پر بڑی سختی کی جاتی ہے، انہیں مارا پیٹا جاتا ہے، انہیں فاقے دیئے جاتے ہیں۔اور ان کے بیٹے نے کہا ہے کہ ان کو ایسی جیل میں رکھا گیا ہے جس میں سانپ اور بچھو بڑی کثرت کی سے پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے نہ انہیں نیند آتی ہے اور نہ انہیں کسی اور طرح کا آرام ہوتا ہے۔لیکن گاندھی جی کی تو انگریز بڑی خاطریں کیا کرتے تھے اور ان کے آرام کا ہر وقت خیال رکھتے تھے۔